
ایک اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے جنگ بندی نہ کرنے پر زور دیا ہے۔
العربیہ کے مطابق اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ فوری جنگ بندی کے ممکنہ خطرات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
عہدیدار نے مزید بتایا کہ امریکی صدر نے نیتن یاہو کو واضح کیا کہ اگر ایران امریکی مطالبات تسلیم کر لیتا ہے تو جنگ بندی ممکن ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو اپنا تمام افزودہ یورینیم حوالے کرنا ہوگا اور مستقبل میں یورینیم افزودگی نہ کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کرنا ہوگی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر نے ایران کو منگل کی شام تک جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری دینے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں توانائی تنصیبات پر بڑے حملے کیے جائیں گے، جبکہ اسرائیل نے اس مرحلے پر جنگ بندی سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح پیغام دیا کہ وہ منگل کی شام تک جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرے، بصورت دیگر ملک کے بجلی گھروں اور توانائی کے دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو پورا ایران ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور یہ رات منگل بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ تہران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے محدود وقت دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے پلوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا، تاہم انہوں نے اس کے ساتھ ہی مذاکرات میں پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی۔ ان کے مطابق بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے اور ایران نیک نیتی سے مذاکرات کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس دوران بتایا کہ امریکا ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کر رہا ہے، تاہم تاحال اس کی باضابطہ منظوری نہیں دی گئی۔