ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل اسی واقعے سے تعلق رکھنے والے دو دیگر افراد کو بھی سزائے موت دی گئی تھی۔

ایرانی خبر رساں ادارے اسلامک اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کے مطابق عدلیہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ علی فہیم نامی شخص کو اس وقت پھانسی دی گئی جب سپریم کورٹ نے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان پھانسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر انسانی قرار دیا ہے۔

تنظیموں کا کہنا ہے کہ کئی ملزمان کے اعترافی بیانات مبینہ طور پر تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے۔

خیال رہے کہ ایران نے ہفتے کے روز دو افراد کو پھانسی دی تھی جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ حزبِ اختلاف کے گروپ پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران (پی ایم او آئی) سے روابط اور مسلح حملے کرنے کے مرتکب تھے۔

۔

گروپ کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز پھانسی پانے والے دونوں افراد جنوری 2024 میں گرفتار ہوئے تھے اور دسمبر 2025 میں ان کی سزائے موت برقرار رکھی گئی تھی۔

واضح رہے کہ جنوری میں شروع ہونے والی بدامنی ابتدا میں معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج کے طور پر سامنے آئی تھی، تاہم بعد ازاں یہ ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئی جس میں حکومت کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل تھے۔

حکام کی جانب سے ان مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 1979 کے انقلاب کے بعد ملک میں سب سے زیادہ پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles