ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سینیٹرز نے ٹرمپ کو ذہنی مریض قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ غیر اخلاقی اور جارحانہ بیانات نے خود امریکا کے اندر ایک سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں سینیئر سیاست دانوں نے ان کی ذہنی حالت پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ کے رویے سے نالاں سیاسی قیادت نے امریکی آئین کی پچیسویں ترمیم نافذ کرنے پر زور دیا ہے تاکہ صدر کی معذوری یا غیر مستحکم ذہنی حالت کی صورت میں اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سینیٹ کے اہم ارکان اور معروف سیاست دانوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر کو ملک کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کانگریس سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چک شومرنے ایسٹر کے موقع پر صدر کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب پوری امریکی قوم ایسٹر کا تہوار منانے میں مصروف ہے، اس وقت ملک کا سربراہ سوشل میڈیا پر جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہا ہے اور عالمی سطح پر اتحادیوں کو خود سے دور کر رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی سابقہ پرجوش حامی ٹیلر گرین نے بھی اب ان کے رویے کو ”جنون“ قرار دے کر ان سے دوری اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ان بے گناہ ایرانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جن کی آزادی کا وہ خود دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ کے دیگر ارکان پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔

دوسری جانب سینیٹر کرس مرفی نے اس صورتِ حال کا حل آئینی طریقے سے نکالنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے کابینہ کے ارکان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر قانونی ماہرین سے رابطہ کریں تاکہ امریکی آئین کی پچیسویں ترمیم کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹانے کے امکانات پر غور کیا جا سکے، کیونکہ ان کے بقول صدر کا طرزِ عمل مکمل طور پر ناقابلِ فہم ہو چکا ہے۔

فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ چکی ہیں۔ دوسری جانب، ایرانی صدر کے دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی کا کہنا ہے کہ ایران یہ تجارتی راستہ صرف اسی صورت میں کھولے گا جب اسے جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو محض ان کی مایوسی اور غصے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس جاری جنگ میں اب تک خطے میں 3,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں لبنان پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ امریکی ماہرین اور سیاست دانوں بشمول رو کھنا اور جیک آکن کلوس نے اس جنگ کو تزویراتی ناکامی قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ پانچ ہفتوں کی لڑائی کے باوجود ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جا سکا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles