
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ غیر شائستہ بیان پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت سمیت اپوزیشن رہنما ان کے بیان پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ متعدد میڈیا چینلز ان کے بیان کو اخلاقی تقاضوں کے پیشِ نظر ان کے بیان کو نشر نہ کرسکے جب کہ ایک چینل نے پیغام پڑھنے سے پہلے باقاعدہ وارننگ جاری کی۔
صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی رہنما اور سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے ان کے حالیہ بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ’پاگل پن‘ قرار دیا۔
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے یہ پوسٹ ایسٹرکی صبح کی ہے۔ وہ تمام افراد جو خود کو عیسائی کہتے ہیں، انہیں خدا کے حضور جھک کر معافی مانگنی چاہیے اور صدر کی اندھی حمایت ترک کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقے کو اچھی طرح جانتی ہیں اور ان کے بقول صدر ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں، ان کے اردگرد موجود افراد بھی اس صورت حال میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایک ہی مؤقف دہرایا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت ایٹمی ہتھیار بنا لے گا، جب کہ اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار پہلے سے موجود ہیں۔
انہوں نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اسرائیل کی جنگیں لڑنے، معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنانے اور اس کی قیمت ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے اینکر جیک ٹیپر صدر ٹرمپ کے پیغام کو پڑھتے ہوئے شرمندہ دکھائی دیے۔
انہوں نے والدین کو متنبہ کیا کہ ’اگر آپ کے بچے یہ پروگرام دیکھ رہے ہیں تو آپ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ صدر نے انتہائی غیر شائستہ اور نازیبا زبان استعمال کی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سویلین انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا عام طور پر جنگی جرم سمجھا جاتا ہے لیکن ٹرمپ اس پر بھی فخر کر رہے ہیں‘۔
فاکس نیوز کی رپورٹر ایلکس ہوگن بھی صدر ٹرمپ کے الفاظ کو آن ایئر نہ دہرا سکیں۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے پیغام کو شائستہ انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج ایک بار پھر ٹروتھ سوشل پر صدر کے مزید تبصرے سنے ہیں جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے‘۔
ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر نے ایرانی حکام سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان کو شرم ناک اور بچکانہ قرار دیا۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ کا بیان پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ؛یہ امریکی صدر کا بیان ہے جو ایسٹر کے موقع پر جاری کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک خطرناک اور دماغی طور پر غیر متوازن فرد کی باتیں ہیں۔ کانگریس کو اس پر ایکشن لینا ہوگا اور اس جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس سے قبل بھی ٹرمپ کی ایران پالیسی کو غیر قانونی اور تباہ کُن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بغیر کسی واضح خطرے کے فوجی حملے کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ایک اور سابق کانگریس مین جوئے والش نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ملک کی ساکھ پر دھبہ قرار دیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین ٹرمپ کے بیان کو مشکوک جانتے ہوئے حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’گروک‘ نے بھی پہلے اس بیان کو صدر ٹرمپ سے منسوب من گھڑت بیان قرار دیا تاہم صارفین کی جانب سے توجہ دلانے پر اس نے اس بیان کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے نازیبا اور گالی نما الفاظ استعمال کیے تھے اور ساتھ ہی دھمکی دی تھی کہ منگل کا دن ایران میں ’پاور پلانٹ ڈے‘ اور ’برج ڈے‘ (پلوں کو نشانہ بنانے کا دن) ہوگا، ایران نے ایسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔