ایران جنگ کی تباہ کاریوں سے ارب پتی بھی محفوظ نہ رہ سکے

ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت پر منفی اثرات سامنے آئے ہیں اور مارچ 2026 ارب پتیوں کے لیے نقصان دہ مہینہ ثابت ہوا۔ امریکی جریدے فوربز کے مطابق کے مطابق اس دوران اسٹاک مارکیٹ کے بڑے اشاریے ایس اینڈ پی 500 اور نیکسڈیک تقریباً 5 فیصد گر گئے، جس سے دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت کم ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے 10 امیر ترین افراد میں سے 9 اپریل کے آغاز پر پہلے کے مقابلے میں کم دولت کے ساتھ داخل ہوئے۔ مجموعی طور پر ان کی دولت 100 ارب ڈالر سے زائد کم ہو کر 2.5 ٹریلین ڈالر رہ گئی۔

درجہ بندی میں بھی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ٹاپ 10 میں شامل افراد میں سے صرف 4 اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے، جن میں ایلون مسک بدستور پہلے اور سرگئی برن دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔ تاہم مسک اور لیری پیج سمیت 5 بڑے ارب پتی ایسے رہے جن کی دولت میں کم از کم 20 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔

ایلون مسک کی دولت 22 ارب ڈالر کم ہو کر 817 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ لیری پیج کی دولت 20 ارب ڈالر کمی کے بعد 237 ارب ڈالر تک آ گئی۔

سب سے زیادہ نقصان فرانس کے برنارڈ آرنو کو ہوا، جو ساتویں نمبر سے دسویں نمبر پر آ گئے اور ان کی دولت 28 ارب ڈالر کم ہو گئی۔ اسی طرح اسپین کے امانسیو اورٹیگا بھی نمایاں طور پر نیچے آئے اور ان کی دولت میں 20 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔

وارن بفیٹ بھی ٹاپ 10 سے باہر ہو گئے اور نویں سے گیارہویں نمبر پر چلے گئے۔ دوسری جانب وال مارٹ کے وارث راب والٹن معمولی نقصان کے باوجود تین سال بعد دوبارہ ٹاپ 10 میں شامل ہو گئے۔

اس فہرست میں واحد اضافہ مائیکل ڈیل کی دولت میں دیکھنے میں آیا، جو 13ویں نمبر سے آٹھویں نمبر پر پہنچ گئے۔ جبکہ جیف بیزوس بھی تیسرے نمبر پر آ گئے، حالانکہ ان کی دولت میں معمولی کمی ہوئی۔

فوربز کے مطابق مارچ 2026 میں دنیا بھر میں 3,428 ارب پتی افراد موجود تھے۔ یہ اعداد و شمار یکم اپریل 2026 کے مطابق ہیں، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں روزانہ اتار چڑھاؤ کے باعث دولت میں بھی مسلسل تبدیلی آتی رہتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles