
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد جنگ بندی کے لیے علاقائی ممالک کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے لیے سرگرم ثالث ممالک کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ امریکی مطالبات قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کوششوں میں شامل ثالثین نے جمعے کے روز تصدیق کی ہے کہ ایرانی حکام نے باضابطہ طور پر امریکی حکام کے ساتھ کسی قسم کی ملاقات سے انکار کردیا ہے۔
اخبار نے ثالث کاروں کے حوالے سے بتایا کہ ہے حالیہ سفارتی ڈیڈ لاک کے باوجود نئی تجاویز پر کام کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایران نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے تو وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا اس معاملے میں واضح مؤقف ہے کہ وہ اس جنگ کو صرف اسی صورت میں ختم کرے گا جب امریکا اس کے بنیادی مطالبات تسلیم کرے گا۔ ان شرائط میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ہرجانے کی ادائیگی، مشرق وسطیٰ میں موجود فوجی اڈوں سے امریکی انخلا اور مستقبل میں دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ٹھوس ضمانت شامل ہے۔