
حکومتِ سندھ نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد سبسڈی پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کے لیے موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 2 ہزار روپے کی براہِ راست مالی امداد (سبسڈی) فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق موٹرسائیکل سواروں کو پٹرول پمپس پر سستا ایندھن فراہم کرنا انتظامی طور پر ممکن نہیں تھا، اس لیے حکومتِ سندھ اس رقم کو شہریوں کے ڈیجیٹل یا بینک اکاؤنٹس میں براہِ راست رقم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگر آپ بھی موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں تو اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کا تمام شرائط اور طریقہ کار سے واقف ہونا ضروری ہے۔
سبسڈی کی رقم کا حساب کیا ہے؟
یہ مالی امداد ماہانہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت کے حساب سے دی جا رہی ہے، جو مجموعی طور پر 2000 روپے ماہانہ بنتی ہے۔
اسکیم کے لیے بنیادی شرائط
اس سبسڈی کو حاصل کرنے کے لیے دو انتہائی اہم اور لازمی شرائط رکھی گئی۔
پہلی شرط یہ ہے کہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے جب کہ دوسری شرط بینک اکاؤنٹ ہے، یعنی رقم کی آن لائن وصولی کے لیے آپ کا کوئی بھی فعال بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے۔
اگر موٹر سائیکل آپ کے نام پر نہیں تو کیا کریں؟
اکثر لوگ اوپن لیٹر یا کسی اور کے نام پر موٹر سائیکل چلاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے موٹر سائیکل کی ملکیت کی منتقلی (ٹرانسفر) فیس ختم کرکے مفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یعنی وہ شہری جن کی موٹر سائیکل ان کے نام پر نہیں ہے، وہ بغیر کسی فیس کے اسے فوری اپنے نام ٹرانسفر کروا کر اس اسکیم کے اہل بن سکتے ہیں۔
رجسٹریشن کا طریقہ
محکمہ ایکسائز سندھ کی جانب سے ایک مخصوص موبائل ایپلیکیشن تیار کی جا رہی ہے جو آئندہ 2 سے 3 روز میں عوام کے لیے مکمل طور پر فعال کر دی جائے گی۔
ایپ لانچ ہونے کے بعد صارفین اپنے قومی شناختی کارڈ نمبرکے ذریعے رجسٹریشن کرواسکیں اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی درج کرنا ہوں گی۔
رقم کب اور کیسے ملے گی؟
تمام کوائف درست ہونے کی صورت میں آپ کی رجسٹریشن مکمل ہوجائے گی اور آپ اس اسکیم میں شامل ہو جائیں گے۔
رجسٹریشن کے تقریباً 15 دن بعد 2000 روپے کی رقم براہِ راست اہل افراد کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جائے گی۔ توقع ہے کہ 15 سے 20 اپریل کے درمیان حکومت کی جانب سے یہ ادائیگیاں شروع کر دی جائیں گی۔
اسکیم کا دورانیہ کتنا ہوگا؟
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق یہ ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے آزمائشی (Trial) بنیادوں پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کی کامیابی اور شفافیت کا جائزہ لینے کے بعد اس اسکیم میں مزید توسیع کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام ابتدائی طور پر ایک ماہ کیلئے آزمائشی بنیادوں پر نافذ کیا جائے گا جس کے بعد اس میں توسیع کی جائے گی۔
مراد علی شاہ نے کسانوں کیلئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جب کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تقریباً 20 لاکھ ایکڑ زمین رکھنے والے چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے دیے جائیں گے، جس کی ادائیگی پیر سے شروع ہوگی۔
انہوں نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کیلئے بھی سبسڈی کا اعلان کیا، جس کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے آپریٹرز کو بالترتیب ماہانہ 1 لاکھ، 70 ہزار اور 80 ہزار روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔