ایران کی خطے میں امریکی تنصیبات، اسرائیل میں فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کے روز صبح سے اب تک خطے میں واقع امریکی فوجی تنصیبات اور اسرائیلی فوجی اڈوں پر شدید حملوں کی تصدیق کی ہے اور ان حملوں کو جنگ کے شہداء کے نام اور ایران پر ہونے والی تازہ جارحیت کا جواب قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب نے حملوں کی 90 ویں لہر کے تحت مشرق وسطیٰ میں واقع امریکی صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

مختلف مراحل میں کیے گئے ان حملوں میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اسٹیل اور ایلومینیم کی صنعتوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خطے میں امریکی اور اسرائیلی فوجی مفادات سے منسلک اہم بنیادی ڈھانچوں، اسرائیلی فضائیہ اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق بحرین کے دارالحکومت منامہ کے قریب واقع امریکی فوجی ہتھیاروں کے مراکز، جن میں رافیل نامی اسلحہ ساز فیکٹریاں اور امریکی افواج کی خفیہ پوزیشنز شامل ہیں، جنہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔

ابوظہبی میں اسٹیل پلانٹس اور بحرین میں ان امریکی ایلومینیم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو پچھلے حملوں میں محفوظ رہے تھے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملے کے دوران درجنوں امریکی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور زخمی اہلکاروں کی منتقلی کے لیے کئی گھنٹوں تک ایمبولینسز کا سلسلہ جاری رہا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مسلح افواج نے اردن کے الازرق ایئر بیس پر موجود امریکی لڑاکا طیاروں پر بھی ڈرون حملے کیے ہیں جب کہ بحرین میں ایمازون ویب سروسز کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کی 90 ویں لہر کے دوسرے مرحلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل میں تل نوف، پاماحیم اور بن گورین میں اسرائیلی ایئر بیسز کے ساتھ ساتھ تل ابیب، حیفہ، ایلات، نیگیو، اور بئر سبع میں فوجی اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا۔

اس کے علاوہ کویت میں احمد الجابر اور علی السالم جب کہ سعودی عرب میں الخرج کے مقام پر موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے گئے۔

ایرانی حکام نے یو اے ای کے الظفرہ ایئربیس پر نصب ریڈار وارننگ سسٹم کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو خطے میں فضائی اور میزائل خطرات کی پیشگی اطلاع کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جاتا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 90 ویں لہر کا دوسرا مرحلہ امریکی اور اسرائیلی افواج کے لیے ایک دو ٹوک پیغام ہے کہ ایرانی صنعتوں پر کسی بھی مزید حملے کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles