امریکا اور اسرائیل کا ایران کے قدیم ترین ہیلتھ ریسرچ سینٹر پر حملہ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے سویلین اہداف کے بعد اب تحقیقی مراکز کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، تازہ حملوں میں پاسچر انسٹی ٹیوٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں قائم پاسچر انسٹی ٹیوٹ، جو ویکسینز کی تیاری اور خطرناک بیماریوں پر تحقیق کا ایک بڑا مرکز ہے، حملے میں بری طرح متاثر ہوا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں عمارتوں کی تباہی اور سیاہ دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران کی وزارت صحت نے اس حملے کو لاکھوں افراد کی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ادارہ ایک صدی سے زائد پرانا ہے اور عالمی سطح پر پاسچر لیبارٹریز کے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے ’پاسچر انسٹی ٹیوٹ‘ پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اِس حملے کو انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی اور ہولناک خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ تحقیقی مرکز ایران میں تیار کی جانے والی تقریباً 40 فیصد ویکسین فراہم کرتا ہے جبکہ یہاں پر ہونے والی تحقیق کے اخراجات بھی کروڑوں ڈالر میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نقصان کے باعث نئی ادویات کی تیاری کا عمل سست پڑ سکتا ہے اور مستقبل میں وباؤں سے نمٹنا مزید مشکل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔

جمعرات کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پیغام میں اسماعیل بقائی نے ’پاسچر انسٹی ٹیوٹ‘ پر حملے کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مراکز کو نشانہ بنانا بنیادی انسانی اقدار پر حملہ اور جاری جارحیت کی کھلی اور واضح مثال ہے۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران کا پاسچر انسٹی ٹیوٹ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کا قدیم ترین اور باوقار تحقیقی اور صحت کا مرکز ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1920 میں پیرس کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ اور ایرانی حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے تحت رکھی گئی تھی۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس مرکز پر حملہ کوئی عام جنگی جرم نہیں بلکہ انسانیت کی بنیادی اور بنیادی اقدار پر ایک وحشیانہ حملہ ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles