
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب قوم سے خطاب میں امریکا کی معیشت، ایران کی صورتحال اور تیل سے متعلق کئی بڑے دعوے کیے، تاہم حقائق جانچنے والے تجزیوں میں ان کے کئی بیانات کو گمراہ کن یا مبالغہ آمیز قرار دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ حکومت میں امریکا ایک مردہ اور تباہ حال ملک تھا جسے انہوں نے دنیا کی سب سے مضبوط معیشت میں تبدیل کردیا اور مہنگائی کا مکمل خاتمہ کردیا۔
تاہم حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے آخری سال 2024 میں امریکی معیشت (جی ڈی پی) میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جو دنیا کے امیر ممالک میں نمایاں تھا۔ 2021 سے 2023 کے دوران بھی امریکی معیشت مستحکم رہی۔
مزید برآں ٹرمپ کے دور میں معاشی شرح نمو کم ہو کر 2.1 فیصد رہی، جس کی ایک بڑی وجہ 43 روزہ حکومتی شٹ ڈاؤن قرار دی گئی۔
صدر ٹرمپ کا مہنگائی کے حوالے سے بھی دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا، کیونکہ فروری میں کنزیومر پرائس انڈیکس سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد بڑھا، جو فیڈرل ریسرو کے 2 فیصد ہدف سے زائد ہے۔
خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھا، تاہم جنگ کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج ہوچکا اور نئی قیادت پہلے سے زیادہ معتدل ہے۔
حقیقت میں یہ دعویٰ بھی متنازع قرار دیا جارہا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنایا گیا، جنہیں زیادہ سخت مؤقف رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب (ریولوشنری گارڈ) کا اثر و رسوخ مزید بڑھا ہے، جبکہ سویلین حکومت کا کنٹرول محدود بتایا جاتا ہے۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا اشارہ دیا گیا تھا، تاہم ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت نے حالیہ مظاہروں میں اپنے ہی 45 ہزار شہریوں کو ہلاک کیا، تاہم اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
امریکا میں قائم تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسنی کے مطابق ملک گیر مظاہروں میں تقریباً 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ہزاروں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ان کی تصدیق ممکن نہیں۔ اسی تنظیم کے مطابق 53 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ایرانی حکومت نے 21 جنوری کو اپنی رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 113 بتائی تھی۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ 32 ہزار ہلاکتوں کا دعویٰ کرچکے ہیں، تاہم اس کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اب مشرق وسطیٰ پر انحصار نہیں کرتا اور اسے وہاں کے تیل کی ضرورت نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور 2025 میں اس کی صرف 8.5 فیصد تیل درآمدات خلیجی خطے سے وابستہ ہیں، تاہم عالمی منڈی کے باعث یہ مکمل طور پر اثر سے آزاد نہیں۔
ماہرین کے مطابق تیل ایک عالمی کموڈٹی ہے، جس کی قیمت عالمی سطح پر طے ہوتی ہے۔ یونیورسٹ آف شکاگو کے توانائی ماہر سیم اوری کے مطابق کسی بھی خطے میں خلل پوری دنیا میں قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی ہے، جو صارفین پر براہ راست اثر انداز ہورہی ہے۔