
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اور اس کے مشرقِ وسطیٰ پر پڑنے والے اثرات نے عرب ممالک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ لاکھوں افراد غربت کا بھی شکار ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی منگل کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جنگ کے ایک ماہ کے اندر خطے کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 3.7 سے 6 فیصد تک کمی متوقع ہے، جو مالی لحاظ سے 120 ارب ڈالر سے لے کر 194 ارب ڈالر تک کے معاشی سکڑاؤ کے برابر ہے۔
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور عرب ریاستوں کے لیے یو این ڈی پی کے ریجنل بیورو کے ڈائریکٹر عبداللہ الدردری کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 37 لاکھ ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں، جبکہ مزید 40 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے عرب معیشت کی کمزوری اور نازک صورتحال کو واضح کردیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اندازے ایک ایسے مختصر مگر شدید تنازع کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں جو چار ہفتوں پر محیط ہو۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوگئی تو اس کے اثرات اور نقصانات کہیں زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔
خاص طور پر ایران کی جانب سے خلیجی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل میں رکاوٹوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے اجرا کے وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں برینٹ کروڈ فیوچرز 4.7 فیصد اضافے کے بعد 118 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اہم سمندری گزرگاہوں میں خطرات نے مہنگائی، تجارتی بہاؤ اور عالمی سپلائی چینز پر منفی اثرات ڈالے ہیں، جس سے خطے کی باہم جڑی معیشتوں میں روزگار اور معاشی استحکام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غربت میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر مشرقی بحیرہ روم کے خطے (لیونٹ) اور کمزور ممالک جیسے سوڈان اور یمن پر پڑے گا، جہاں پہلے ہی معاشی و سماجی حالات نازک ہیں اور کسی بھی بحران کے اثرات زیادہ شدت سے محسوس کیے جاتے ہیں۔
لبنان کے حوالے سے رپورٹ میں خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے کے ردعمل میں جنگ کا حصہ بنا۔
رپورٹ کے مطابق لبنان میں جاری فضائی حملوں اور انخلا کے احکامات نے رہائشی علاقوں، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
یو این کے ریجنل بیورو ڈایریکٹر عبداللہ الدردری نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ لڑائی کل ہی رک جائے، کیونکہ ہر گزرتا دن عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔