ایپسٹین سے روابط: وارن بفیٹ کا بل گیٹس فاؤنڈیشن کو مزید چندہ دینے سے انکار

دنیا کے معروف سرمایہ کار وارن بفیٹ نے بل گیٹس فاؤنڈیشن کو مزید عطیات دینے سے انکار کردیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سرمایہ کار وارن بفیٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ فی الحال یہ یقین دہانی نہیں کرا سکتے کہ وہ آئندہ بھی گیٹس فاؤنڈیشن کو اپنے سالانہ اربوں ڈالر کے عطیات جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا، ’’میں دیکھوں گا کہ آگے کیا ہوتا ہے، میرے علم میں نئی معلومات آئیں ہیں جن سے پہلے آگاہ نہیں تھا‘‘

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے فروری میں جاری کی گئی دستاویزات میں انکشاف ہوا کہ بل گیٹس نے 2008 میں جنسی جرائم میں سزا یافتہ جیفری ایپسٹین سے متعدد ملاقاتیں کیں، جن میں فلاحی امور پر گفتگو بھی شامل تھی۔

95 سالہ وارن بفیٹ، جو برکشائر ہیتھ وے کے چیئرمین ہیں، 2006 سے اپنی دولت کا بڑا حصہ عطیہ کرتے آرہے ہیں اور اب تک 47 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے شیئرز گیٹس فاؤنڈیشن کو دے چکے ہیں۔ صرف گزشتہ سال انہوں نے 4.5 ارب ڈالر سے زیادہ کا عطیہ دیا تھا۔

گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے بفیٹ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا، تاہم انہیں ایک ’’غیر معمولی طور پر فیاض شراکت دار‘‘ قرار دیا گیا جن کی مالی معاونت نے دنیا کے بڑے مسائل کے حل میں مدد دی۔

دوسری جانب بل گیٹس کے ترجمان نے کہا کہ ایپسٹین سے ملاقات ایک ’’سنگین غلطی‘‘ تھی، تاہم انہوں نے ہمیشہ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ کسی مجرمانہ سرگرمی کا حصہ نہیں تھے۔

رپورٹس کے مطابق 2024 میں بفیٹ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد گیٹس فاؤنڈیشن کو عطیات بند ہو جائیں گے اور ان کی 99.5 فیصد دولت ایک فلاحی ٹرسٹ کو منتقل کی جائے گی جس کی نگرانی ان کے بچے کریں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بفیٹ کو فاؤنڈیشن کے حجم اور اس کے کام کرنے کے انداز پر بھی خدشات تھے، خاص طور پر ایسے منصوبوں میں کم دلچسپی پر جو زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔

واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کو 2019 میں جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اسی سال نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔

وارن بفیٹ نے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ ایپسٹین کس طرح اتنے لوگوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہا۔ ان کے بقول، ”یہ شخص لوگوں کی کمزوریوں کو پہچانتا تھا اور ایک کے بعد ایک کو متاثر کرتا گیا۔“

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles