
عراق کے دارالحکومت بغداد سے ایک امریکی خاتون صحافی کو اغوا کر لیا گیا ہے جس کے بعد عراقی سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اغوا ہونے والی صحافی کی شناخت شیلی کٹلسن کے نام سے ہوئی ہے جو ایک فری لانس صحافی کے طور پر مشرقِ وسطیٰ کے امور پر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔
عراقی وزارتِ داخلہ نے غیر ملکی صحافی کے اغوا کی تصدیق کی ہے تاہم ان کی شہریت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، البتہ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے والی خاتون امریکی شہری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بغداد کی مرکزی شاہراہ سعدون اسٹریٹ پر پیش آیا جہاں سے مسلح افراد نے خاتون کو اغوا کیا۔
عراقی حکام نے بتایا کہ اغوا کار دو گاڑیوں میں سوار تھے اور بغداد سے جنوب مغرب کی جانب بابل صوبے کی طرف فرار ہو رہے تھے۔ تعاقب کے دوران اغوا کاروں کی ایک گاڑی الحصوہ کے قریب الٹ گئی جس کے نتیجے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم اغوا کار خاتون صحافی کو دوسری گاڑی میں منتقل کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
عراقی فورسز نے تمام چیک پوسٹوں کو الرٹ کر دیا ہے اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر اغوا کاروں کی تلاش جاری ہے۔
عالمی عوامی امور کے معاون امریکی وزیرِ خارجہ ڈیلن جانسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراقی حکام کی حراست میں موجود مشتبہ شخص کا تعلق ایران نواز ملیشیا ’کتائب حزب اللہ‘ سے ہے۔
امریکی دفترِ خارجہ نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے امریکی شہریوں کی حفاظت سب سے اہم ترجیح ہے اور وہ ان رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس اغوا کا تعلق خطے میں جاری جنگ سے ہے یا نہیں، لیکن جنگ کے آغاز کے بعد سے عراق میں موجود ایران کے حامی گروپوں کی جانب سے امریکی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بغداد میں موجود امریکی سفارت خانے نے پہلے ہی اپنے شہریوں کو اغوا کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے ملک چھوڑنے کی ہدایت کر رکھی تھی۔
مشرقِ وسطیٰ کی خبریں فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’ال مانیٹر’ جس کے لیے شیلی کٹلسن کام کرتی رہی ہیں، اس نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادارے نے اپنے بیان میں شیلی کی فوری اور بحفاظت رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طویل عرصے سے شام اور عراق سے اہم رپورٹنگ کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی عراق میں غیر ملکیوں کے اغوا کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
پرنسٹن یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی طالبہ الزبتھ تسورکوف، جن کے پاس اسرائیلی اور روسی شہریت ہے، 2023 میں بغداد سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ ستمبر 2025 میں رہائی کے بعد جب انہیں امریکی حکام کے حوالے کیا گیا، تو انہوں نے بتایا کہ انہیں ایران نواز عراقی ملیشیا ’کتائب حزب اللہ‘ نے قید میں رکھا ہوا تھا۔ اس گروپ نے کبھی بھی باضابطہ طور پر ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔