
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ اور محدود نوعیت کا رابطہ موجود ہے، تاہم انہوں نے باضابطہ مذاکرات کی تردید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ بندی کے بجائے تنازع کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے، جب کہ امریکا کے 15 نکاتی تجاویز پر ایران نے کوئی جواب نہیں دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ براہ راست پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، جو حالیہ کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
تاہم عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اس رابطے کے باوجود کسی قسم کے باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ سیکیورٹی سے متعلق بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔
امریکا کی جانب سے ممکنہ حملے کی دھمکیوں کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اپنے مخالفین کے اقدام کا انتظار کر رہا ہے اور اگر حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہوں گی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے امریکا کے 15 نکاتی تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا، ایران نے کوئی شرائط نہیں لگائی ہیں، ایران جنگ کا مکمل خاتمہ ہی قبول کرے گا، ساتھ ہی ایران کو گارنٹی بھی چاہئے تاکہ ایران پر دوبارہ حملے نہ ہوں اور نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے۔
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی پریس بریفنگ کے جواب میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ پر ردِ عمل دیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ’’امریکا فرسٹ‘‘ کا نعرہ اس وقت کھوکھلا محسوس ہوتا ہے جب کسی غیر ملکی حکومت کے لیے جنگ چھیڑی جائے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے اور نوجوان فوجیوں کو مرنے کے لیے بھیجا جا رہا ہو۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ یہ جنگ ایک مسلط کردہ فیصلہ ہے جو انتخاب کے تحت شروع کی گئی اور اسے امریکیوں اور ایرانیوں دونوں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔