
لاہور کی سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور کی سیشن کورٹ میں زیرِ سماعت گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کے دعوے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔
منگل کے روز کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے میشا شفیع کے خلاف ڈگری جاری کرتے ہوئے انہیں 50 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس کیس کی پاکستان کی شوبز انڈسٹری اور قانونی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔ علی ظفر نے 2018 میں میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہراسانی کے الزامات سے علی ظفر کی عوامی ساکھ متاثر ہوئی اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
درخواست میں عدالت سے میشا شفیع کو ایک ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس کیس کی سماعت کے دوران مجموعی طور پر 9 ججز کا تبادلہ ہوا جب کہ 284 پیشیاں ہوئیں، جس کے بعد بالآخر عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔