
امریکی محکمہ شہریت و تارکین وطن نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں کی مخصوص درخواستوں پر دوبارہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال نومبر میں ایک پناہ گزین کی جانب سے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد تمام قسم کی پناہ کی درخواستوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔
اس حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا تھا، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت گیر امیگریشن کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ کی درخواستوں پر پابندی کا جواز پیش کرتے ہوئے سابقہ دورِ حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
امریکی حکام کا مؤقف تھا کہ بائیڈن دور میں جانچ پڑتال کے ناقص نظام کی وجہ سے ایک ایسا افغان مہاجر امریکا میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا جس نے بعد میں فوجیوں پر حملہ کیا۔
اس واقعے کے بعد حکومت نے امیگریشن قوانین کو مزید سخت کر دیا تھا اور سفری پابندیوں کی فہرست میں بھی اضافہ کر دیا تھا۔
محکمہ شہریت کے ترجمان کے مطابق ابھی صرف ان ممالک کے پناہ گزینوں کی درخواستوں پر سے پابندی ہٹائی گئی ہے جنہیں کم خطرے والے ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ تاہم ترجمان نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے جنہیں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
لیکن یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمام درخواست گزاروں کی انتہائی سخت جانچ پڑتال اور اسکریننگ کا عمل پہلے کی طرح جاری رہے گا تاکہ سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ نیشنل گارڈ پر حملے سے قبل ہی صدر ٹرمپ نے امیگریشن کے حوالے سے ایک جارحانہ مہم شروع کر رکھی تھی۔
جولائی میں بارہ ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے کے لیے پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد مزید سات ممالک کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔
اب کچھ درخواستوں پر دوبارہ کام شروع ہونا ان پناہ گزینوں کے لیے امید کی کرن ہے جو طویل عرصے سے قانونی عمل کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔