
صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں توانائی کے ذخائر، معیشت، سرکاری اخراجات میں کمی اور عوامی ریلیف کے لیے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں ملکی توانائی، معیشت اور سیکیورٹی کے امور پر جامع فیصلے کیے گئے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ملک میں تیل و گیس کے وافر ذخائر کی موجودگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور مستقبل کے لیے انتظامات جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی۔ تیل کی قیمتیں بڑھانے کی تجاویز بارہا مسترد کی گئیں، جبکہ بچت پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں کمی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بچت سے حاصل شدہ فنڈز عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو پاکستان کے سفارتی رابطوں پر بریفنگ دی، جس میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت سے ملاقاتیں اور آئندہ دورہ بیجنگ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں معیشت، توانائی، خوراک اور سیکیورٹی کے امور میں مربوط فیصلے کرنے پر زور دیا گیا۔
صدر زرداری نے ہدایت کی کہ مشکل وقت میں کمزور طبقات کو اکیلا نہ چھوڑا جائے اور ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر وفاقی وزراء و مشیران شریک تھے۔
اجلاس میں وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر بجلی اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، رانا ثنا، طارق باجوہ، مریم اورنگزیب، سلیم مانڈوی والا، ڈاکٹر عاصم اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔