
لاہور کے لیڈی ولیگڈن اسپتال میں ایک وائرل آپریشن ویڈیو کے تنازع شدت اختیار کرگیا، ڈاکٹرز نے معطلی اور زبردستی بیانات کے بعد احتجاج کرتے ہوئے پنجاب بھر میں اپنے استعفیٰ جمع کروانے کی دھمکی دی ہے۔
لاہور کے معروف لیڈی ولیگڈن اسپتال میں ایک نو ماہ پرانی آپریشن ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چھ سے آٹھ ڈاکٹروں کو معطل کر دیا گیا
ویڈیو میں دکھایا جانے والا عملہ حقیقت میں آپریشن میں شامل نہیں تھا، تاہم اس کے بعد ڈاکٹرز سے زبردستی بیانات قلمبند کروائے گئے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے پر وائس ڈینز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) کے صدر احمد گجر نے کہا کہ معطلی اور بیانات کی کارروائی غیر مناسب ہے، اور جو چھوٹے یا جونئیر ڈاکٹروں کی غلطی ہوئی اسے معاف کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 30 سے 35 سال خدمت کرنے والے سینئر ڈاکٹرز کے مستقبل کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
ڈاکٹر شعیب نیازی نے کہا کہ اسپتال میں دن رات کام جاری ہے اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کے کیریئر کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے۔
پی جی ٹرینرز اور سینئر ڈاکٹرز نے کہا کہ فی میل ڈاکٹرز کو سیکرٹریٹ میں بٹھایا گیا اور انہیں پریس کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ ٹک ٹاک کلچر اور انفراسٹرکچر کی کمی، انستھزیا کی قلت سمیت دیگر مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔
ڈاکٹر مدثر اشرفی نے خبردار کیا کہ اگر معاملے کا شفاف انکوائری نہ کی گئی تو ڈاکٹرز سب اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتال میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہے اور چھ ماہ کے دوران بھی آپریشنز جاری ہیں، اس لیے شفاف انکوائری ضروری ہے تاکہ ڈاکٹرز کے مستقبل پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔