
ایران کے سرکاری انگریزی اخبار تہران ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں اہم ایرانی قیادت کو ہدف بنانے، بڑے شہروں اور ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنے، اور ممکنہ زمینی و محدود ایٹمی کارروائیاں شامل ہیں۔
عرب خبر رساں ویب سائٹ ’العریبیہ اردو‘ کی رپورٹ نے ایران کے سرکاری انگریزی اخبار تہران ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت اہم ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ بڑے شہروں کے انفراسٹرکچر پر حملے کیے جائیں گے جبکہ ایران کے شمال مغرب سے 4 ہزار افراد پر مشتمل اپوزیشن فورسز کے ساتھ زمینی حملہ کیا جائے گا۔
منصوبے کے مطابق ایران کے جنوب مشرق سے 2 ہزار 500 امریکی فوجی داخل ہوں گے۔ فوجی اتارنے کے لیے بندر عباس، کرمانشاہ، ارمیہ اور تبریز کے ہوائی اڈوں کا استعمال کیا جائے گا۔
میزائل حملوں کے لیے 5 سے 15 فوجیوں پر مشتمل جنگی یونٹس پیرا شوٹ کے ذریعے شہری اور ایٹمی تنصیبات میں اتارے جائیں گے۔
بعض فوجی اور ایٹمی مقامات پر محدود ایٹمی حملوں کی تیاری بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں جاری جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اتوار کو بھی ایرانی شہروں پر بمباری جاری رہی اور اسرائیلی فوج نے ایران سے فائر کیے گئے راکٹوں کا سراغ لگایا۔
یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ عالمی معیشت کو توانائی کی سپلائی میں سنگین خلل کا سامنا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون ایران میں ہفتوں طویل زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تمام ضروری آپشنز فراہم کرنے کی تیاری میں ہے۔
حکام نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ نے ایرانی جزیرے خارگ پر کنٹرول اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقوں پر حملوں کے امکانات پر بھی غور کیا ہے۔
اخبار کے مطابق زمینی کارروائی کے لیے پینٹاگون کی تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے، تاہم ایک امریکی ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ زمینی کارروائی کی مدت دو ماہ ہو سکتی ہے۔
امریکی منصوبوں میں سپیشل آپریشنز اور روایتی پیادہ فوج کے حملے شامل ہو سکتے ہیں۔ ایران میں جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہوتے ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی میرینز تعینات کر دیے گئے ہیں، اور امریکی فوج کی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔