
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر زمینی حملوں کی صورت میں امریکی افواج کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ کو اسرائیل کا پیادہ قرار دے دیا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ ایپسٹین کیس میں اپنے پسِ منظر کی وجہ سے موساد کے دباؤ میں ہیں۔
لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے مخصوس انداز میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ زمینی حملے یا قبضے کی کوشش کی صورت میں ’امریکی فوجی خلیجِ فارس کی شارک مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے‘۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پینٹاگون ایران میں ہفتوں پر محیط زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بارہا ایران کے خلاف زمینی کارروائیوں اور خلیج فارس کے بعض جزائر پر قبضے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، تاہم یہ صرف ان کی خام خیالی ہی ثابت ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی افواج طویل عرصے سے یہ ثابت کرنے کی منتظر ہیں کہ جارحیت اور قبضے کا انجام ذلت اور حملہ آوروں کی بربادی ہوتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا کی ان دھمکیوں کے جواب میں ایران نے ملک بھر میں اپنی دفاعی پوزیشنز کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ عراق سے ملحق جنوب مغربی سرحد پر بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، جہاں امریکی اڈے بھی موجود ہیں جب کہ آبنائے ہرمز کے قریب جنوب مشرقی علاقوں میں بھی سخت دفاعی اقدامات کیے گئے ہیں۔