جنگ بندی کے لیے ایران کی نئی شرط، اربوں ڈالر کمائی کا امکان

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط میں ایک اہم مطالبہ شامل کیا ہے، وہ یہ کہ ایران چاہتا ہے کہ دنیا یہ مان لے کہ آبنائے ہرمز پر اس کی مکمل خودمختاری ہے۔ یہ وہ گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، اور حالیہ صورتحال نے اس کی اہمیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ جہاز رانی بڑی حد تک ایران کی شرائط سے مشروط ہو چکی ہے، اور کئی ممالک اب براہِ راست تہران سے رابطہ کر کے اپنے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ حاصل کر رہے ہیں۔

سی این این کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ خطے میں عدم استحکام امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے، اور اسی لیے جہازوں کے لیے ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ ضروری قرار دیا گیا تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

دلچسپ طور پر ایران نے مکمل بندش کے بجائے ایک کنٹرولڈ ایکسس ماڈل اپنایا ہے، جس کے تحت غیر دشمن ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

مثال کے طور پر پاکستان کے جہازوں کو روزانہ گزرنے کی اجازت دینا ایک مثبت اور تعمیری قدم قرار دیا گیا ہے، جو علاقائی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران نے اس بحران میں ایک نئی اسٹریٹجک طاقت دریافت کی ہے، یعنی اپنی جغرافیائی حیثیت کو عالمی معاشی دباؤ کے مؤثر ہتھیار میں بدل دینا۔ اب تہران اس اثر کو مستقل معاشی فائدے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، جس کے تحت جہازوں سے فیس وصول کر کے اربوں ڈالر سالانہ آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔

ایران کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اگر اس پر پابندیاں عائد کر کے اس کی تیل برآمدات روکی جائیں، تو اسے بھی حق حاصل ہے کہ وہ اسی راستے کو استعمال کرتے ہوئے دباؤ ڈالے۔ بعض ایرانی حلقوں کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایک قانونی اور اسٹریٹجک حق ہے، خاص طور پر جب ملک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہو۔

مزید برآں، زمینی حقائق بھی ایران کے حق میں جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی سطح پر شپنگ انڈسٹری اس وقت ایران کی پالیسیوں کے مطابق ڈھلنے پر مجبور ہے، اور کئی جہاز ایران کے قریب مخصوص راستوں سے گزر رہے ہیں—جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عملی کنٹرول تہران کے ہاتھ میں ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles