اسرائیل کے مختلف شہروں میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف مظاہرے شروع، پولیس کا کریک ڈاؤن

اسرائیل کے مختلف شہروں میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب، حیفہ اور یروشلم سمیت ملک کے تقریباً 20 مقامات پر ایران جنگ کے خلاف مظاہرے کیے گئے، جن میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔

تل ابیب میں ہونے والے مرکزی احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سخت کریک ڈاؤن کیا اور کم از کم 13 افراد کو گرفتار کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ مظاہرے سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے ایک گروپ کی جانب سے منعقد کیے گئے، جنہیں سول سوسائٹی کی درجنوں تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ مخالف نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق پولیس نے تل ابیب میں پانچ جبکہ حیفہ میں چھ مظاہرین کو حراست میں لیا جبکہ یروشلم میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جمع ہونے والے سینکڑوں افراد کو بھی منتشر کر دیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششوں کے دوران مختلف مقامات پر مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں شدت آچکی ہے اور ایران کی جانب سے جوابی حملوں کی صورت میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles