
امریکا اور اسرائیل کی جانب ے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو ایک مہینہ گزر چکا ہے۔ 28 فروری کو شروع کی گئی اس جنگ میں امریکا، ایران اور اسرائیل سمیت کئی خلیجی ممالک بھاری نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اس ایک مہینے میں کس کا کتنا نقصان ہوا اور یہ معاملہ شروع کہاں سے ہوا؟ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
اس جنگ کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا جن اسرائیل اور امریکا نے ایران کے خلاف سرجیکل فضائی آپریشن کیا۔
28 فروری (جنگ کا پہلا دن): امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے جوہری اور عسکری انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا۔ جس کے نتیجے میں تہران، اصفہان اور نطنز سمیت کئی شہروں میں متعدد دھماکے ہوئے۔
بڑے اہداف: ان حملوں میں نطنز اور فردو کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل کے گودام اور پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی قیادت کو نقصان: ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ عسکری حکام (بشمول عزیز نصیر زادہ اور محمد پاکپور) شہید ہوئے۔
اس دوران امریکا کا ایک ٹوماہاک میزائل میناب میں بچیوں کے ایک اسکول پر گرا جس کے نتیجے میں 170 بچیاں شہید ہوئیں۔
ایران کا جواب: اسی دن ایران نے جواب میں ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ شروع کیا اور سینکڑوں ڈرونز اور میزائل اسرائیل اور خلیج میں امریکی اڈوں کی طرف داغ دیے۔
جنگ کے پہلے ہفتے کے نتائج
جنگ کے پہلے ہفتے میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے ایک ہزار سے زائد عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
اسی ہفتے قطر میں ’راس لفان‘ ایل این جی پلانٹ پر ایرانی میزائل لگنے سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونا شروع ہوگئی۔
جنگ کے پہلے ہفتے کے اختتام تک تیل کی عالمی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو تنازع شروع ہونے سے پہلے تقریباً 70 ڈالر تھی۔ اس کے ساتھ ہی پورے خطے میں سول ایوی ایشن (شہری ہوابازی) کی سرگرمیاں محدود کر دی گئیں۔
دوسرا ہفتہ: علاقائی پھیلاؤ اور بحری ناکہ بندی
7 مارچ سے 14 مارچ کے درمیان جنگ کا دائرہ کار لبنان، شام اور عراق تک پھیل گیا۔ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹوں کی بارش کر دی، جس کے جواب میں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی حصوں پر شدید بمباری کی۔
اس دوران ایران نے اپنئے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا اور باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کو ’بند‘ کرنے کا اعلان کیا اور پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی کہ امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو دیکھتے ہی تباہ کردیا جائے گا۔ ایران نے کئی بحری جہازوں کا نشانہ بھی بنایا۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ہیلیم اور تیل کی سپلائی میں 33 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔
جنگ کے دوسرے ہفتے میں نئے محاذ بھی کھلنے لگے۔ یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں امریکی بحری بیڑے پر حملے تیز کر دیے، جبکہ عراق میں موجود امریکی اڈوں (الاسد بیس) کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
اسی ہفتے میں امریکی فوج نے جنگ کے دوران اپنے پہلے جانی نقصان کا اعلان کیا، جس کے مطابق کویت کی بندرگاہ شعیبہ میں ایک فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
عراقی حدود میں ایک امریکی فوجی ری فیولنگ طیارہ گر کر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں عملے کے تمام چھ ارکان ہلاک ہو گئے۔ اگرچہ ایران نواز عراقی گروپوں نے طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا اور کسی ”دشمن کی کارروائی یا فرینڈلی فائر“ کا نتیجہ نہیں تھا۔
اس کے علاوہ امریکی فوج نے کویت کی فضائی حدود میں ’فرینڈلی فائر‘ (اپنی ہی فورسز کی غلط فائرنگ) کے نتیجے میں تین امریکی لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کا اعلان کیا۔
تیسرا ہفتہ: زمینی جھڑپیں اور اسرائیل پر میزائل حملے
15 مارچ سے 21 مارچ کے دمریان ایران نے اسرائیل کے بڑے شہروں (تل ابیب اور یروشلم) کو براہِ راست اور مسلسل نشانہ بنایا۔
اسرائیلی نقصانات: تل ابیب میں ایران کے کلسٹر میزائل (خرم شہر 4) سے ایک 52 سالہ شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اسرائیل کے دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ پر دباؤ بڑھنے سے زیادہ تر ایرانی میزائل کامیابی سے اپنے اہداف پر گرے۔
اس دوران سعودی عرب میں شاہ سلمان ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے اور کئی ری فیولنگ طیارے تباہ ہوئے۔ جس کی تصدیق امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے 28 مارچ کو کی۔
سائبر وار فیئر: علاوہ ازیں، دونوں جانب سے ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے بجلی کے گرڈز اور بینکنگ سسٹم پر بڑے سائبر حملے کیے، جس سے ایران میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔
اسرائیل نے ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج نیم فوجی فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو شہید کیا اور ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو بھی نشانہ بنایا۔
جوابی کارروائی میں ایران نے پورے خطے میں توانائی کی تنصیبات پر حملے کیے، جن میں قطر کی ’راس لفان‘ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سہولت اور اسرائیل میں تیل کی ایک ریفائنری شامل ہے۔
چوتھا ہفتہ: سفارتی تعطل اور حملوں کا تسلسل
22 مارچ سے 28 مارچ (موجودہ صورتحال): جنگ ایک تعطل کا شکار نظر آتی ہے جہاں فضائی حملے جاری ہیں لیکن کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
سفارتی اشارے: وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق، امریکا اور اسرائیل نے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر محمد باقر قالیباف کو عارضی طور پر ’ہٹ لسٹ‘ سے نکال دیا ہے۔ جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان رابطہ کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔
بحرین میں ہنگامے: بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کی موجودگی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، جس میں انسانی حقوق کے کارکن محمد الموسوی کی دورانِ حراست مبینہ ہلاکت نے مزید آگ بھڑکا دی۔
28 مارچ کو اسرائیل نے ایران کی اہم جوہری اور صنعتی تنصیبات پر فضائی حملے کر دیے، جن میں اراک کا ہیوی واٹر پلانٹ، اردکان کی یورینیم پراسیسنگ سائٹ اور بڑی اسٹیل فیکٹریاں شامل ہیں۔
ایک ماہ میں ہونے والے تصدیق شدہ نقصانات اور اعداد و شمار
جانی نقصانات (قریبی اعداد و شمار)
ایران میں 1400 سے زائد عام شہری جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ جبکہ عسکری حکام سمیت تقریباً 800 سے زائد فوجی اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں میں 16 اموات ہوچکی ہیں اور 1500 سے زائد زخمی ہیں۔
اسی طرح مجموعی طور پر امریکا اپنے 13 فوجی کھو چکا ہے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
لبنان میں اب تک 1340 ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں، جبکہ 3315 افراد زخمی ہیں۔ تقریباً آٹھ لاکھ لبنانی شہریوں کو اسرائیل نے بے گھر کردیا ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق، جاں بحق ہونے والوں میں 122 بچے اور 83 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی کل تعداد میں 403 بچے اور 456 خواتین شامل ہیں۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق 28 فروری 2026 کو علاقائی تنازع کے آغاز سے اب تک متحدہ عرب امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 171 زخمی ہوئے ہیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں تین فوجی اہلکارشامل ہیں، جو نو مارچ کو تکنیکی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوئے۔
علاوہ ازیں جنوبی ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے آٹھ غیر ملکی شہری بھی اپنی جان گنوا بیٹھے، ان افراد کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور فلسطین سے ہے۔
متحدہ عرب امارات میں زخمی ہونے والوں کی کُل تعداد 171 ہے۔ ان زخمیوں میں 29 مختلف قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔
ملٹری اہداف اور اسٹریٹیجک نقصانات
ایران کے نقصانات: امریکا اور اسرائیل نے مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ ایران کا ایک تہائی (33 فیصد) میزائل ذخیرہ تباہ ہو چکا ہے، تاہم کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران نے اپنے جدید میزائل زیرِ زمین سرنگوں میں محفوظ کر رکھے ہیں۔
امریکا کے نقصانات: ایران نے قطر اور سعودی عرب میں امریکی بیسز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر مالیت کے ریڈار سسٹم، کئی ڈرونز اور ری فیولنگ طیارے تباہ ہوئے۔
اس کے علاوہ ایران نے قطر اور سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کیے۔ جس کے نتیجے میں قطر کی ایل این جی پیداوار رک گئی ہے، جبکہ سعودی عرب کو بھی تیل سے ہونے والی آمدنی پر بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اس تمام صورتِحال میں آبنائے ہرمز کی بندش سب سے اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس سے عالمی تجارت کو یومیہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور تیل 115 ڈالر فی برل تک پہنچ گیا ہے۔
مزید حملوں کا امکان
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہے، لیکن آزاد فوجی تجزیہ کاروں جیسے کہ رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسا کہ حالیہ تل ابیب حملوں سے ظاہر ہوا۔
مزید برآں، ایران کے جوہری پروگرام کو پہنچنے والے نقصان کی اصل حد اب بھی واضح نہیں ہے کیونکہ اہم تنصیبات پہاڑوں کے بہت اندر واقع ہیں۔
نوٹ: یہ معلومات عالمی خبر رساں اداروں (رائٹرز، الجزیرہ، گارڈین اور وال اسٹریٹ جنرل) کی رپورٹس اور عسکری ماہرین کے تجزیوں پر مبنی ہیں۔