توقع نہیں تھی ایران خلیجی ممالک پر حملہ کرے گا، مشرقِ وسطیٰ اب ’ابراہم اکارڈ‘ پر دستخط کرے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے، جبکہ جاری مذاکرات کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا۔

واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 سال سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث بنا رہا، تاہم اب ایران کسی کو ہراساں نہیں کر سکے گا اور خطے کو اس کے خطرے سے پاک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسے اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔

امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ ایران نے سعودی عرب، بحرین، قطر اور کویت پر میزائل حملے کیے، جبکہ ’’مڈنائٹ ہیمر‘ آپریشن کے بعد بھی ایران نے اپنی جوہری صلاحیت پر کام جاری رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکے گا۔

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’اسٹریٹ آف ٹرمپ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس اہم گزرگاہ کو کھولنا ہوگا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’ںیو یارک ٹائمز‘ اس بیان کو بھی فیک نیوز قرار دے گا۔

نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ نیٹو کے برعکس سعودی عرب، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات نے جنگ میں کردار ادا کیا۔

دریں اثنا صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ نہ روکی گئی تو بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ایک ہفتے کی جنگ میں نو طیارے گرائے گئے۔

انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’’بہترین انسان‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے 30 سے 50 ملین افراد کی جانیں بچائیں۔

علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر ’ابراہم معاہدے‘ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد کو بھی اس معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دیگر ممالک بھی اس معاہدے کو تسلیم کریں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles