
مشرقِ وسطٰی میں جنگ کے اٹھائیسویں دن بھی امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن میں اب تک دو ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے تاحال جاری ہیں، جن کے دوران تہران سے مشہد تک کے شہر رات بھر دھماکوں سے گونجتے رہے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق درجنوں سرکاری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل کے فضائی حملے میں ایرانی شہر قم کے متعدد علاقوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں چھ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق کئی عمارتیں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایران کی جانب سے بھی امریکی اڈوں اور اسرائیلی شہروں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور وار ہیڈز سے حملے جاری رکھے۔ اسرائیلی شہر نہاریہ میں ایک شخص ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے، جب کہ تل ابیب میں دو اور کفر قاسم میں پانچ افراد شدید زخمی ہوئے۔ ابراہم لنکن پر بھی حملہ ہوا جس میں ایک سیلر زخمی ہوا۔
پاسداران انقلاب نے دعوٰی کیا کہ اب تک آٹھ سو امریکی فوجی ہلاک اور پانچ ہزار زخمی ہو چکے ہیں اور سترہ امریکی اڈے تباہ ہوئے۔ سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے متعدد ایرانی میزائل فضا میں ناکام بنائے، جب کہ کویت کی بندرگاہ کو بھی نقصان پہنچا۔
خلیجی ممالک مسلسل ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ابوظہبی میں ایک روکے گئے پروجیکٹائل سے دو افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوئے، جاں بحق افراد بھارت اور پاکستان کے شہری تھے۔ کویت نے بھی متعدد بار میزائل اور ڈرونز کو ناکام بنایا۔
ادھر عراق میں امریکی فضائی حملوں میں ہبّانیہ بیس پر پانچ سے سات فوجی ہلاک اور 23 زخمی ہوئے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں سے ہلاکتوں کی تعداد 1,116 تک پہنچ گئی ہے۔ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید فوجی اہلکار طلب کیے گئے، اس دوران دو اسرائیلی سپاہی بھی ہلاک ہوئے۔ لبنانی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کو خدشات سے آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل لِتانی دریا کے جنوب میں علاقے پر قبضہ کر سکتا ہے۔
ایران جنگ کے دوران تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں اور ہرمز کی تنگی کی بندش سے عراق کی تیل کی برآمدات 70 فی صد سے زائد کم ہو گئی ہیں۔ عالمی بینک نے فوری مالی امداد دینے کی تیاری کا اعلان کیا ہے، جب کہ روسی تیل کا ایک جہاز فلپائن پہنچا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوجی ذخائر پر جنگ کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور حکومت یورپ کے بجائے مشرق وسطیٰ کے لیے ابتدائی طور پر یوکرین کے لیے مختص انٹرسیپٹر میزائل دوبارہ مختص کرنے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں کو 10 دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے اور کہا کہ امن مذاکرات ”بہت اچھے“ چل رہے ہیں، حالانکہ ایران نے اس تجویز کو ”یک طرفہ اور غیر منصفانہ“ قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی رہنماؤں نے تہران، ریاض، قاہرہ، ابوظبی، برسلزاور استنبول میں رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔
پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کردار ادا کیا ہے، جب کہ ترکی اور مصر بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل ہیں تاکہ جنگ کو وسیع پیمانے پر پھیلنے سے روکا جا سکے۔
جرمن وزیرِ خارجہ نے بھی کہا کہ امریکا ایران جنگ بندی مذاکرات جلد پاکستان میں ہوں گے، پاکستان میں براہ راست ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں، دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے ہوچکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے بعض ممالک اس خطے پر انحصار کرتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ایران کی حکومت گر جائے یا خلیج کی معیشتیں غیر مستحکم ہوں۔