
دنیا کی سفارتی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو پوری انسانیت کا رخ بدل دیتے ہیں، اور ان میں سے کئی اہم موڑ پر پاکستان ایک خاموش مگر مؤثر پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے، بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اس نے بڑی طاقتوں کو میز پر بٹھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی 1971 میں اس وقت سامنے آئی جب اس نے دنیا کے دو بڑے حریفوں، امریکا اور چین کو قریب لانے میں مدد کی۔
اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اسلام آباد سے بیجنگ کا ایک انتہائی خفیہ دورہ کیا، جس کا انتظام پاکستانی قیادت نے نہایت مہارت سے کیا تھا۔
اس دورے نے دہائیوں سے جمی برف کو پگھلا دیا اور چین اور امریکا کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات کی بنیاد پڑی۔
ہنری کسنجر آج بھی اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان کے بغیر یہ تاریخی پیش رفت ممکن نہ ہوتی۔
اسی طرح 1967 اور 1973 کی عرب اسرائیل جنگوں کے دوران بھی پاکستان کا کردار محض بیان بازی تک محدود نہیں تھا۔
پاکستان نے نہ صرف عرب ممالک کی بھرپور سفارتی حمایت کی بلکہ اس کے ماہر پائلٹس نے اردن اور شام کی فضائی حدود کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کے طیارے بھی مار گرائے۔
ان نازک حالات میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی جنگ بندی کے لیے مؤثر آواز اٹھائی اور تنازع کے حل کے لیے کئی قرار دادیں پیش کیں۔
پاکستان کا امن پسندانہ کردار اس سے بھی پیچھے 1953 تک جاتا ہے جب شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان خونی جنگ اپنے عروج پر تھی۔
اس جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کے معاہدے میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے کمیشن کے رکن کے طور پر اہم خدمات انجام دیں۔
پاکستان نے جنوبی کوریا سے قبضہ چھڑانے، امن فوج کی تعیناتی اور جنگی قیدیوں کی بحفاظت واپسی میں جو کردار ادا کیا، اسے آج بھی کوریا کی تاریخ میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں بھی پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا ہے۔
چاہے وہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 2020 کا تاریخی دوحہ معاہدہ ہو یا سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، پاکستان نے ہمیشہ مکالمے کو ترجیح دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کے تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات اسے ایک بہترین ثالث بناتے ہیں۔
آج جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے بادل چھا رہے ہیں، تو دنیا ایک بار پھر پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ اپنی قدیم سفارتی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانیت کو ایک بڑے حادثے سے بچا لے۔