
ایران کی جانب سے جاری کی گئی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو تیزی سے انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے جس میں امریکا سے بدلہ لینے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس ویڈیو کا اختتام ایک میزائل حملے پر ہوتا ہے جو نیویارک میں نصب مشہورِ زمانہ مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ویڈیو میں مجسمہ آزادی کا سر بدل کر اس کی جگہ ایک قدیم شیطانی دیوتا ’بعل‘ کا سر لگا دکھایا گیا ہے، جسے مذہبی اور تاریخی حوالے سے طاقت اور برائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے ’آر ٹی‘ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ کلپ شیئر کیا ہے جس کا عنوان ’سب کی طرف سے ایک ہی انتقام‘ رکھا گیا ہے۔
یہ ویڈیو دراصل امریکا کی جانب سے جاری طویل مظالم اور ماضی کے مختلف تنازعات کو ایک کہانی کی شکل میں پیش کرتی ہے۔
ویڈیو کا آغاز شمالی امریکا کے مقامی قبائل کی زمینوں سے ہوتا ہے جس کے بعد جاپان کے شہر ہیروشیما کے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے ایٹمی بمباری کی تھی۔
اس کے بعد کہانی ویتنام کے جنگ زدہ کھیتوں، یمن کی تباہی اور غزہ کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچتی ہے۔
ہر منظر میں وہاں موجود کردار آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ان ممالک میں امریکی فوجی مداخلت یا مدد سے ہونے والی مبینہ تباہی کی طرف اشارہ ہے۔
اس ویڈیو میں ایپسٹین جزیرے میں کھڑی ایک بچی کو بھی دکھایا گیا ہے جو آسمان کی جانب دیکھ رہی ہے، اس کا مقصد امریکی اشرافیہ اور عالمی رہنماؤں کے غلیظ کارناموں کی طرف اشارہ دلانا تھا۔
کہانی میں اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک اسکول کی بچی کو دکھایا جاتا ہے۔
یہ منظر اس اسکول پر ہونے والے اس ٹوما ہاک میزائل حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 160 سے زائد بچیاں جاں بحق ہوئیں اور اس کا الزام امریکا پر لگایا گیا تھا۔
ویڈیو میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں، جو بالترتیب 2020 اور فروری 2026 میں امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں مارے گئے تھے۔
ویڈیو کے آخری لمحات میں ایک میزائل بادلوں کو چیرتا ہوا مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس میں ’بعل‘ کا سر دکھانا ایک گہرا علامتی پیغام ہے، کیونکہ یہ کردار تاریخی طور پر بت پرستی اور اخلاقی بگاڑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔