
ایران کے اسرائیل اورامریکا پر وارجاری، صرف 40 منٹ کے دوران 400 میزائل داغ دیے، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، کویت، اردن، بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملوں کی ایک اور بڑی لہر میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ شہر میں خطرے کے سائرن طویل وقت تک بجتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنی براک کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم بارہ افراد زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران زخمیوں کی تعداد دو سو تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے حدیرہ میں واقع ایک بڑے پاور پلانٹ کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہی دن میں ہونے والا پانچواں بڑا حملہ تھا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ایران نے چالیس منٹ کے دوران سینکڑوں میزائل داغے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
عرب ممالک کی جانب سے دفاعی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا۔ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ بیس سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
اُدھر لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں شمالی شہر کرمیل میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں متعدد زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔
لبنانی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں کے کچھ حصے لبنانی علاقے میں گرے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ لبنان ان حملوں کا ہدف نہیں تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔