ایران کو امریکی تجویز موصول، ممکنہ مذاکرات پاکستان یا ترکیہ میں ہوسکتے ہیں: رائٹرز

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق پاکستان نے امریکی تجویز تہران تک پہنچا دی ہے جبکہ ممکنہ مذاکرات پاکستان یا ترکیہ میں ہونے کا امکان ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجویز ایران تک پہنچا دی ہے۔

ایرانی عہدیدار نے امریکی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا یہ وہی 15 نکاتی امریکی منصوبہ ہے جس کی خبریں عالمی میڈیا میں سامنے آ چکی ہیں۔

ایرانی ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششوں میں ترکیہ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان اور ترکیہ کی میزبانی پر غور کیا جارہا ہے۔

ترکیہ کی حکمران جماعت کے سینئر رہنما ہارون ارمغان نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی اس ہفتے ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔

تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اب تک باضابطہ مذاکرات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ایران کی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کسی صورت امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی توجہ اس وقت اپنی خودمختاری کے دفاع پر مرکوز ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم حالیہ دنوں میں ان کے مؤقف میں نرمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی کچھ استحکام آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر اسرائیل کو شدید خدشات لاحق ہیں۔ اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکی شرائط کو قبول نہیں کرے گا جبکہ امریکا مذاکرات کے دوران نرمی دکھا سکتا ہے، جس پر اسرائیل کو تحفظات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مبینہ امریکی تجاویز میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت شرائط شامل ہیں۔ جس کے تحت ایران کو اپنی تمام موجودہ جوہری صلاحیت ختم کرنا ہوگی اور یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

اس منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اپنے علاقائی اتحادی گروہوں کی مالی اور عسکری امددد بند کرنا ہوگی اور آبنائے ہرمز میں بھی کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles