
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی اور بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤقف میں تضاد، غیر واضح حکمت عملی اور کمزور منصوبہ بندی نمایاں رہی، جس کے باعث عالمی سطح پر امریکا کے اتحادیوں کا اعتماد متاثر ہوا اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، خصوصاً ایران کے حوالے سے مؤقف اور بیانات پر تنقید کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایک ہی وقت میں سخت دھمکیاں دینے اور مذاکرات کی بات کرنے جیسے متضاد مؤقف اختیار کرتے رہے، جس سے ان کی حکمت عملی غیر واضح نظر آتی ہے۔
رپورٹ میں ونسٹن چرچل کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ جنگ کے حالات میں سچ کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، تاہم ٹرمپ کے بیانات میں تسلسل اور سچائی کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کے بیانات کو بعض اوقات حقیقت سے دور قرار دیا جاتا ہے اور ان کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے دیگر فریقین کے بیانات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کا یہ تاثر تھا کہ ایران 72 گھنٹوں میں ہتھیار ڈال دے گا، جسے ان کی ابتدائی حکمت عملی یعنی ’’پلان اے‘‘ قرار دیا گیا، جب کہ اس کے بعد کسی واضح ’’پلان بی‘‘ کا فقدان نظر آتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورت حال نے یہ ظاہر کیا کہ امریکا ایک واضح اور متبادل حکمت عملی کے بغیر آگے بڑھ رہا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ خطے کے دیگر ممالک اور اتحادی بھی اس بات سے آگاہ تھے کہ ایران ممکنہ طور پر ردعمل دے گا، اور اسی خدشے کے تحت خلیجی رہنماؤں نے پہلے ہی ٹرمپ کو متنبہ کیا تھا۔ تاہم امریکی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے کے باعث صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اس تنازع کے بعد امریکا کے اتحادیوں کے اعتماد میں کمی دیکھی گئی ہے اور عالمی سطح پر اس بات کا خدشہ بڑھ گیا ہے کہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی دیکھی گئی، جہاں وہ پہلے حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے تھے، بعد میں کچھ پابندیاں نرم کرنے کے اشارے بھی سامنے آئے۔
اخبار کے مطابق مجموعی طور پر ٹرمپ کی پالیسیوں اور منصوبہ بندی کو غیر مربوط قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سیاست میں غیر یقینی صورت حال میں اضافہ ہوا ہے اور بحرانوں کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔