
امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے۔
جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی دی تھی جس کے فوراً بعد تہران کے ساتھ نئی بات چیت کے آغاز کا دعویٰ کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔
پیر کو صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ دو روز سے جاری مذاکرات بڑے مثبت اور نتیجہ خیز رہے، مذاکرات کی بنیاد پر ایران کے جوہری اہداف کے خلاف فوجی کارروائی اگلے پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تفصیلی اور تعمیری مذاکرات ایک ہفتے تک جاری رہیں گے۔ تاہم دوسری جانب سے ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دعووں کی تردید سامنے آئی۔
ایران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ ہیں۔
ایران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔