
ایران نے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل حملے کیے ہیں، جس کی اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کردی ہے۔ ایرانی وار صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی نظام پر پانچ دن کے لیے حملے روکے جانے کے اعلان کے بعد کیے گئے ہیں، جس کا حوالہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی مفید اور مثبت بات چیت کے طور پر دیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملوں کے دوران اسرائیل کے مختلف حصوں میں ایئر ریڈ سائرن بج اٹھے، جن میں تل ابیب بھی شامل ہے جہاں انٹرسیپٹرز کے ذریعے میزائلوں کو روکتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں۔
ایک حملے میں شمالی اسرائیل میں واقع گھروں کو ٹکرانے والے ملبے سے نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں مکمل اور جامع جنگ بندی کے سلسلے میں بہت مثبت اور مفید گفتگو ہوئی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اسی بنیاد پر ایران کے توانائی کے نظام پر حملے کا منصوبہ پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ان کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آئی، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے جا گئیں، جبکہ شیئر مارکیٹس میں اضافہ ہوا۔
تاہم یہ فائدے منگل کو خطرے میں پڑ گئے، جب ایران کی طاقتور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں اور اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ایسی بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔
ایران کی ایلیٹ فورس انقلابی گارڈز نے بھی اعلان کیا کہ وہ امریکی اہداف پر تازہ حملے کر رہے ہیں، اور صدر ٹرمپ کے بیانات کو نفسیاتی حربے قرار دے چکے ہیں۔