امریکا نے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی

امریکا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے عارضی طور پر ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئے لائسنس کے تحت جہازوں پر لوڈ تیل کی فروخت کی اجازت ہوگی، نیا لائسنس 19 اپریل تک فعال رہے گا۔

ایران نے امریکی اقدام کو قیمتوں میں کمی کا ”نفسیاتی حربہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے ختم ہونے کی بات صرف خریداروں کو امید دلانے کے لیے ہے اور عالمی منڈی میں فروخت کے لیے کوئی تیل موجود نہیں۔

امریکی سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا ایرانی تیل کی فروخت کے لیے قلیل مدتی اجازت نامہ جاری کر دیا گیا ہے، اس رعایت کے نتیجے میں تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ میں آئے گا، اور ایران کی وجہ سے سپلائی پر عارضی دباؤ کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

سیکرٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی سپلائی اور قیمتوں کا استحکام ہے، ٹرمپ انتظامیہ 440 ملین اضافی بیرل تیل عالمی منڈی میں لانے پر کام کر رہی ہے، صدر ٹرمپ کے ایجنڈے نے امریکی تیل و گیس کی پیداوار ریکارڈ سطح پر پہنچا دی۔

خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور آئل ریفائنریز پر جوابی حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles