
پاکستان بھر میں آج عیدالفطر مذہبی عقیدت، احترام اور جوش و خروش کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ صبح سویرے ہی ملک کے مختلف شہروں میں مساجد اور عیدگاہوں کا رخ کرنے والوں کا رش دیکھنے میں آیا، جہاں نمازعید کے چھوٹے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔
کراچی میں سب سے پہلے گرومندر کی سبیل والی مسجد میں نماز عیدالفطر ادا کی گئی، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فیصل مسجد اور لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد میں بھی بڑے اجتماعات ہوئے جن میں اہم حکومتی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
اسی طرح پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں بھی نمازعید کے اجتماعات منعقد ہوئے جہاں لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔
نماز عید کے بعد ملک و قوم کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں، جبکہ امت مسلمہ کے اتحاد اور دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے بھی دعائیں کی گئیں۔
عید کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ مساجد اور عیدگاہوں کے اطراف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے تعینات رہے تاکہ شہری بلاخوف و خطر عبادات ادا کر سکیں۔
اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو عیدالفطر کی دلی مبارکباد دی۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ عیدالفطر صبر اور استقامت کے بعد اللہ تعالیٰ کے انعام کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن ایثار، اتحاد، خدمت خلق اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو تازہ کرتا ہے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد موجود کمزور اور مستحق افراد کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ رمضان المبارک کے دوران حکومت نے کمزور طبقات کی باعزت مالی معاونت کے لیے ڈیجیٹل والٹس کا نظام کامیابی سے مکمل کیا۔
انہوں نے کہا کہ عید کی خوشیوں اور شکرگزاری کے اس موقع پر بھی پاکستانی قوم کے دل غزہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حالات اس بات کی واضح یاد دہانی ہیں کہ امت مسلمہ کو مزید اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔
ملک بھر میں عیدالفطر کے موقع پر خوشی، عبادت اور یکجہتی کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں، جہاں لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر اس پرمسرت دن کی خوشیاں بانٹ رہے ہیں۔