ایرانی ساحلوں پر فوجی آپریشن کا امکان، امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاریاں

امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں میرینز اور بحری دستوں کو روانہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے پیشِ نظر مزید فوجی دستے مشرقِ وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقریباً 4 ہزار میرینز پر مشتمل ایک اہم گروپ کو اس خطے کی جانب سفر کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق اضافی فوجی تعیناتی کا مقصد خطے میں ممکنہ آئندہ کارروائیوں کے لیے تیاری کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ دو اہلکاروں نے واضح کیا کہ ایران میں براہِ راست فوج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اس سلسلے میں امریکی بحریہ کا جنگی جہاز یو ایس ایس باکسر اپنے میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ اور دیگر جنگی جہازوں کے ساتھ تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس یونٹ میں تقریباً 2500 میرینز شامل ہیں، جو طے شدہ وقت سے تقریباً تین ہفتے پہلے روانہ کیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ فی الحال فوج کہیں نہیں بھیج رہے، تاہم اگر ایسا کیا گیا تو اس کی پیشگی اطلاع نہیں دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اضافی فوجیوں کا کردار تاحال واضح نہیں کیا گیا، تاہم یہ دستے فضائی حملوں، سمندری کارروائیوں یا ضرورت پڑنے پر زمینی آپریشنز میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

یہ نئی تعیناتیاں مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود تقریباً 50 ہزار امریکی فوجیوں میں مزید اضافہ کریں گی اور اس کے بعد خطے میں دو میرین ایکسپیڈیشنری یونٹس موجود ہوں گے۔ پہلا یونٹ انڈو پیسیفک سے روانہ ہو چکا ہے اور اگلے ہفتے پہنچنے کی توقع ہے۔

دریں اثنا، امریکی بحری بیڑے کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مرمت کے لیے یونان کے جزیرے کریٹ کے علاقے سودا بے منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی جگہ یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کو تعینات کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوج ایران کے خلاف مہم کے اگلے مراحل پر بھی غور کر رہی ہے، جن میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنا اور ایران کے ساحلی علاقوں پر ممکنہ تعیناتی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے خارگ آئل ٹرمینل، جہاں سے ملک کی 90 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں، پر بھی آپریشن کے امکانات زیر غور ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا کوئی بھی فیصلہ سیاسی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی عوام کی بڑی تعداد اس جنگ کی حمایت نہیں کرتی۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق 65 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ایران میں بڑی زمینی جنگ کا حکم دے سکتے ہیں، جبکہ صرف 7 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اب تک ایران میں 7 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ درجنوں ایرانی بحری اثاثوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون نے اس جنگ کے اخراجات کے لیے 200 ارب ڈالر سے زائد کے اضافی فنڈز کی منظوری کے لیے بھی درخواست دے دی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ تنازع طویل ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles