ایرانی حملوں کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پسپائی پر مجبور، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن خطے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا ہے، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق ایران کی فوج نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے امریکا کے خلاف میزائل حملے کیے، جو مبینہ طور پر دشمن کی کارروائیوں کے جواب میں تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں ساحل سے سمندر میں مار کرنے والے طاقتور میزائل داغے گئے، جن کے باعث امریکی طیارہ بردار جہاز کو علاقے سے دور ہونا پڑا۔

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر بھی کچھ ویڈیوز وائرل وہ رہی ہیں جن میں ایک طیارہ بردار جہاز پر کئی جگہ آگ لگی دکھائی گئی ہے۔ اس طیارہ بردار جہاز کا نام یو ایس ایس جیرالڈ آر فولڈ بتایا جا رہا ہے۔

ایران کا یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایرانی قیادت اور اہم فوجی شخصیات کے قتل کے بعد ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کیے۔

ان حملوں میں ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہزاروں جانیں گئی ہیں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔

ان کارروائیوں میں ایران نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا۔

دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے اس بات کی فوری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے کہ آیا واقعی طیارہ بردار جہاز کو ایرانی حملوں کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑا یا نہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles