ایران کے نئے سپریم لیڈر نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز مسترد کردیں

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی سے متعلق تجاویز کو مسترد کردیا ہے، یہ تجاویز دو مختلف ممالک کی جانب سے ثالثی کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی تھیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز بتایا کہ دو ثالث ممالک کی جانب سے تہران کو امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی تجاویز پہنچائی گئیں تاہم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ان تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔

عہدیدار کے مطابق نئے ایرانی سپریم لیڈر نے اپنی پہلی خارجہ پالیسی سے متعلق میٹنگ میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا مؤقف امریکا اور اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی کے حوالے سے ”انتہائی سخت اور سنجیدہ“ ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سپریم لیڈر نے اس اجلاس میں بذات خود شرکت کی یا نہیں۔

دوسری جانب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں اب تک کم از کم 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ جنگ کے خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز بھی تاحال تک بند ہے، جس کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک سے اس گزرگاہ کو کھلوانے میں مدد کی درخواست کو بھی خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل سکی۔

علاوہ ازیں 14 مارچ کو تین مختلف ذرائع نے بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles