آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی حفاظت کا منصوبہ امریکا کے لیے کتنا تباہ کن ثابت ہوگا؟

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے حساس سمندری گزرگاہوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے بعد اس اہم راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت امریکی بحریہ تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حفاظت فراہم کرے گی۔

اس منصوبے میں امریکا نے اپنے اتحادی ممالک جیسے جاپان، جنوبی کوریا اور نیٹو کے رکن ممالک سے بھی بحری جہاز فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہاں تک کہ چین جیسے ممالک سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔ تاہم اب تک کسی ملک نے باقاعدہ طور پر اس منصوبے میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا۔

امریکی نیوز چینل ’سی این این‘ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کے ایسکارٹ کا یہ منصوبہ بظاہر ایک حل تو نظر آتا ہے، لیکن اس میں بڑے خطرات موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مشن کامیاب بھی ہو جائے تو بھی ممکن ہے کہ جنگ سے پہلے جتنی تجارتی آمدورفت ہوتی تھی اس کا صرف تقریباً دس فیصد ہی بحال ہو سکے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کے ذخائر اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔

اس کے علاوہ بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس اور کھاد بنانے میں استعمال ہونے والی مصنوعات بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس راستے میں رکاوٹ آنے سے عالمی معیشت پر فوری اثر پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی سب سے بڑی مشکل آبنائے ہرمز کا جغرافیہ ہے۔ یہ راستہ اپنے تنگ ترین مقام پر تقریباً دس میل چوڑا ہے، جبکہ اس میں چلنے کے قابل جگہ اس سے بھی کم ہوتی ہے۔

بڑے آئل ٹینکر بہت زیادہ لمبے ہوتے ہیں اور بعض تو تین فٹبال میدانوں جتنی لمبائی رکھتے ہیں۔

ایسے میں جنگی جہازوں کے لیے ان ٹینکروں کے اردگرد مؤثر انداز میں حرکت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

آسٹریلیا کی سابق بحری افسر اور دفاعی تجزیہ کار جینیفر پارکر کے مطابق جنگی جہازوں کو دشمن کے میزائل یا ڈرون کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب پوزیشن اختیار کرنا پڑتی ہے، لیکن جب بہت بڑے ٹینکر ساتھ ہوں تو وہ بعض اوقات جنگی جہازوں کی نظر بھی محدود کر دیتے ہیں۔

جینیفر پارکر کے مطابق، اس کے علاوہ خطرے کا جواب دینے کے لیے وقت بھی بہت کم ہوتا ہے کیونکہ ایران کے میزائل اور ڈرون اس گزرگاہ کے قریب ساحلوں سے لانچ کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف جنگی جہازوں سے یہ مشن مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے فضائی نگرانی بھی ضروری ہوگی۔ ہیلی کاپٹر، جنگی طیارے اور جدید نگرانی کے طیارے (ایواکس) مسلسل فضا میں موجود رہیں گے تاکہ ڈرون یا میزائل حملوں کا بروقت پتا لگایا جا سکے۔

اسی طرح جاسوس ڈرون اور ریڈار سسٹم کو ایران کے اندر تک نگرانی کرنی ہوگی تاکہ کسی ممکنہ حملے کو پہلے ہی روکا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایران کے پاس بھی مختلف طریقوں سے حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ایران ڈرون، میزائل، بارودی سرنگیں اور تیز رفتار کشتیوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں بارودی سرنگیں چھوٹی ماہی گیری کشتیوں یا دیگر عام کشتیوں کے ذریعے بھی سمندر میں نصب کی جا سکتی ہیں، جس سے خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

سنگاپور کے ایس راجرتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ریسرچ فیلو، کولن کوہ کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج جو آبنائے ہرمز میں حفاظتی مشنوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، وہ پھیلی ہوئی اور زیادہ تر متحرک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرکوں پر نصب ڈرونز اور میزائل یا بارودی سرنگیں لاتعداد چھوٹی ماہی گیر کشتیوں، دھاؤ (روایتی کشتیوں) یا یہاں تک کہ تفریحی کشتیوں سے بھی داغے جا سکتے ہیں۔

کولن کوہ نے کہا، ”کیا آپ خطرات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ان تمام کشتیوں کو تباہ کرنے کے قابل ہوں گے؟ میرے نزدیک، یہ ممکن نظر نہیں آتا۔“

ایک اور مسئلہ جنگی جہازوں کی محدود تعداد ہے۔ ’لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس‘ کی گزشتہ ہفتے کی ایک رپورٹ میں ایڈیٹر اِن چیف رچرڈ میڈ نے لکھا ہے کہ ایک امریکی تباہ کن جنگی جہاز بیک وقت صرف ایک یا دو آئل ٹینکروں کو ہی محافظت فراہم کر سکتا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق پانچ سے دس تجارتی جہازوں کے قافلے کو محفوظ راستہ دینے کے لیے آٹھ سے دس ڈسٹرائیر جنگی جہاز درکار ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی بحریہ کے پاس مجموعی طور پر 73 جدید ڈسٹرائیر جنگی بحری جہاز موجود ہیں، لیکن ان میں سے تمام بیک وقت استعمال کے قابل نہیں ہوتے کیونکہ کچھ تربیت یا مرمت کے مراحل میں ہوتے ہیں۔

رچرڈ کے مطابق، اندازاً تقریباً پچاس جہاز ہی کسی بھی وقت کارروائی کے لیے تیار ہوتے ہیں اور وہ بھی دنیا کے مختلف حصوں میں تعینات ہیں۔ اس وجہ سے امریکا کے لیے یہ مشن طویل عرصے تک جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

بارودی سرنگوں کا مسئلہ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سمندر میں نصب بارودی سرنگیں جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہیں اور انہیں تلاش کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

امریکا نے گزشتہ سال خلیج فارس میں موجود اپنے چار مخصوص مائن سویپر جہاز واپس بلا لیے تھے۔ ان کی جگہ اب چھوٹے جنگی جہاز تعینات کیے گئے ہیں، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے اس خطے میں صرف تین ایسے جہاز موجود تھے جو بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کولن کوہ کا کہنا ہے کہ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک اس مسئلے کے حل کے لیے اپنے مائن سویپر جہاز فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان ممالک نے بھی اب تک کوئی واضح وعدہ نہیں کیا۔

اس کے علاوہ مائن سویپر جہاز خود زیادہ طاقتور دفاعی نظام نہیں رکھتے، اس لیے انہیں بھی اضافی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کو ماضی میں بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا رہا ہے۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں بھی ایران نے ڈرون نما طیاروں، تیز رفتار کشتیوں اور بارودی سرنگوں کا استعمال کیا تھا۔ تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ آج کی صورتحال اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ اب ایران کے پاس زیادہ جدید ہتھیار اور بڑی تعداد میں ڈرون اور میزائل موجود ہیں۔

مزید یہ کہ حالیہ برسوں میں بحیرہ احمر میں یمن کے حوثی باغیوں نے بھی تجارتی جہازوں پر حملے کیے تھے۔ اس دوران امریکا اور یورپی ممالک کے جنگی جہازوں کی موجودگی کے باوجود کئی جہازوں کو نقصان پہنچا۔ ایک موقع پر تو ایک میزائل امریکی جنگی جہاز کے بہت قریب سے گزر گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں اسی طرح کے حملے ایران کی جانب سے کیے گئے تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ایران کے پاس حوثیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور فوجی وسائل موجود ہیں۔

سی این این کے مطابق، کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتیں طویل عرصے تک یہ سمجھتی رہی ہیں کہ سمندری تجارت ہمیشہ محفوظ رہے گی۔ لیکن موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی معیشت کی بنیاد سمندری راستوں پر ہے اور اگر یہ راستے غیر محفوظ ہو جائیں تو اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles