ایران نے کن ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے؟

امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے سے عالمی سطح پر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کی معیشت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اب جنگ کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث سوال اٹھ رہا ہے کہ ایران کن ممالک کے جہازوں کو اس اہم گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے اور کن ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کے سینئر مشیر ابراہیم جباری نے دو مارچ کو اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اگر کوئی جہاز زبردستی اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو ایرانی بحریہ اور پاسداران انقلاب اسے تباہ کر سکتے ہیں۔

اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا اور برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے تقریباً 65 ڈالر تھی۔ اس طرح صرف چند ہفتوں میں تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’سی بی ایس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کئی ممالک نے اپنے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ مانگا ہے۔ ان کے مطابق کچھ ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں اور کہا کہ اس کا فیصلہ ایران کی فوجی قیادت کرتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق چند ممالک کے جہازوں کو محدود طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

خبر رساں ادارے ’بلوم برگ‘ کے مطابق پاکستانی پرچم والا ’کراچی‘ نامی ایک آئل ٹینکر جہاز خلیج سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحفاظت باہر نکل چکا ہے۔

اس واقعے کو اس بات کی مثال سمجھا جا رہا ہے کہ ایران بعض ممالک کے جہازوں کو مخصوص حالات میں گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔

بھارت کے حوالے سے بھی اسی طرح کی صورتحال سامنے آئی ہے۔

ایران کے بھارت میں سفیر محمد فتح علی نے بتایا کہ ایران نے بعض بھارتی جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔

اگرچہ انہوں نے جہازوں کی تعداد نہیں بتائی، لیکن بھارتی حکومت نے بتایا کہ مائع گیس لے جانے والے دو بھارتی ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر کر بھارت کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔

ترکیہ کے ایک جہاز کو بھی ایران سے اجازت ملنے کے بعد گزرنے دیا گیا۔

ترکیے کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو کے مطابق ایرانی حکام سے اجازت حاصل کرنے کے بعد ایک ترک ملکیت جہاز اس راستے سے گزر سکا۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر پندرہ ترک جہاز اس علاقے میں موجود تھے جن میں سے ایک کو اجازت دی گئی۔

چین بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق چین ایران سے درخواست کر رہا ہے کہ اس کے تیل اور قطر سے آنے والی مائع قدرتی گیس کے جہازوں کو محفوظ راستہ دیا جائے۔

چین کی معیشت بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتی ہے اور اس کے تقریباً 45 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے اس راستے کی بندش چین کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔

یورپ کے بعض ممالک بھی اس معاملے پر ایران سے رابطے کر رہے ہیں۔

برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کے مطابق فرانس اور اٹلی نے ایران سے بات چیت کی درخواست کی ہے تاکہ ان کے جہازوں کو بھی اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی جا سکے۔

دوسری جانب امریکا نے اس صورتحال کے پیش نظر ایک بحری اتحاد بنانے کی تجویز دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مختلف ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے جنگی جہاز بھیج کر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائیں تاکہ اس راستے کو کسی ایک ملک کی جانب سے خطرہ نہ رہے۔

انہوں نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کا نام بھی لیا۔

تاہم اب تک ان ممالک نے اس طرح کے کسی فوجی اتحاد میں شامل ہونے کا وعدہ نہیں کیا ہے۔

جرمنی اور یونان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اس جنگ میں کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اس تنازع کو مزید وسیع جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہتا۔

ماہرین کے مطابق امریکا کے اتحادی ممالک کے لیے اس قسم کی بحری کارروائی میں شامل ہونا آسان نہیں ہوگا۔

مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی تجزیہ کار راجر شناہان کا کہنا ہے کہ بیشتر مغربی اتحادی شروع سے ہی اس جنگ کے حق میں نہیں تھے، اس لیے وہ براہ راست فوجی تعاون دینے سے گریز کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق عملی طور پر بھی بحری جہازوں کو اس خطے میں پہنچانے میں وقت لگتا ہے اور اس طرح کی کارروائی فوری طور پر شروع نہیں کی جا سکتی۔

مجموعی طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تجارت اور توانائی کی منڈی کے لیے نہایت حساس بن چکی ہے۔ اگر اس راستے میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور تجارتی راستوں پر پڑ سکتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles