
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ 16ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ تازہ حملوں میں ایران کے شہر اصفہان کو نشانہ بنایا گیا جہاں کم از کم 15 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی ویڈیو جاری کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تازہ حملوں میں شہر اصفہان کے صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں کم از کم پندرہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ اسی دوران دارالحکومت تہران میں واقع خلائی تحقیق کے ایک مرکز پر بھی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران مزید دو اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اٹھائیس فروری سے جاری حملوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں ملک بھر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چودہ سو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اب تک تقریباً تینتالیس ہزار عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف تہران میں تقریباً دس ہزار عمارتیں متاثر ہوئیں جن میں درجنوں ہنگامی طبی مراکز، متعدد تعلیمی ادارے اور ایمبولینسیں بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اسرائیل کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کی گئی ہے جس میں پہلی مرتبہ سجیل بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
اسرائیلی شہر تل ابیب میں مختلف مقامات پر میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں جن کے نتیجے میں عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سو سے زائد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں بعض امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاض کے قریب الخرج کے علاقے میں واقع امریکی فوجی اڈے اور عیسیٰ ایئر بیس پر بھی حملے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعض خلیجی ممالک نے ایرانی ڈرون اور میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سیاست دان اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھولنے کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو خلیج فارس سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرنا ہوگی۔
دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا ہے کہ عراق میں ایک فضائی ایندھن بردار طیارے کی تباہی کے واقعے میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کی شناخت جاری کر دی گئی ہے۔