
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اس جنگ نے ایک بات ثابت کردی ہے کہ خطے میں امریکی بیسز کسی کو تحفظ نہیں دیتے، امریکہ نے جسے بھی کپڑے پہنائے وہ برہنہ ہوگیا۔
محمد باقر قالیباف نے سماجی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں امریکی اڈے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو سیکیورٹی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی خودمختاری اور علاقائی تعاون پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے امریکہ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے مفادات کے مقابلے میں اسرائیل کو ترجیح دیتا ہے۔ قالیباف کے بقول امریکہ اپنی پالیسیوں میں اسرائیل کے مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور دیگر شراکت داروں کی سلامتی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
اسی تناظر میں انہوں نے ایک سخت تمثیل استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’جو بھی امریکہ کی سیکیورٹی کے سہارے کھڑا ہے، وہ دراصل غیر محفوظ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکی فوجی موجودگی کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات خرگ جزیرہ اور ابوموسیٰ جزیرہ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق حملہ کم فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ سسٹم سے کیا گیا اور یہ کارروائی ایران کے ایک پڑوسی ملک کی سرزمین سے کی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
اُدھر امریکہ کا موقف ہے کہ خلیج میں اس کی فوجی موجودگی کا مقصد اتحادی ممالک کا دفاع اور اہم سمندری راستوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے، جن میں آبنائے ہرمز بھی شامل ہے جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اہم تجارتی اور توانائی کے راستوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔