تہران میں یومِ القدس ریلی، دھماکوں کے باوجود ایرانی قیادت کی شرکت، عوام کا جوش

تہران میں یومِ القدس کے موقع پر منعقد ہونے والی ریلی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی اور حکومتی قیادت نے شرکت کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور دیگر شہروں میں یوم القدس کے موقع پر ریلیاں نکالی گئیں جن میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

ریلی شرکا کے درمیان اچانک ایرانی صدر مسعود پزیشکیاں، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سیکرٹری نیشنل سکیورٹی کونسل علی لاریجانی بھی رونما ہوگئے اور عوام سے ملاقاتیں کیں۔

ایرانی رہنماؤں نے کسی بھی دھمکی اور خوف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ریلی کے شرکا کے ساتھ سیلفیز بنوائیں اور امریکا مخالف نعرے بھی لگائے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت بھی یوم القدس کی ریلیوں میں شریک ہوئی، ایرانی صدر مسعود پزشکیاں تہران میں ریلی میں شریک ہوئے، صدر سے لوگوں نے ہاتھ ملائے، سیلفیاں بھی بنوائیں۔

رپورٹس کے مطابق ریلی کے دوران تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اور کم از کم ایک خاتون ہلاک ہوئی جب ایک دھماکہ مظاہرین کے قریب ہوا۔

ایران کی ریاستی میڈیا نے بتایا کہ مظاہرین نے بینرز اور جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’امریکا مردہ باد‘ اور ’اسرائیل مردہ باد‘ کے نعرے درج تھے۔

علی لاریجانی نے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی کمزوری اور ایرانی قوم کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ انھوں نے امریکا کو متنبہ کیا کہ خطروں سے نہیں کھیلے۔

ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے اعلان کیا کہ ایران کی مسلح افواج امریکا اور اسرائیل کو ایک ناقابل فراموش سبق سکھائیں گی۔ ریاستی ٹی وی نے بعد ازاں رپورٹ دی کہ ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل حملے کیے ہیں۔

تہران میں یومِ القدس کی یہ ریلی کشیدہ حالات کے باوجود جاری رہی، اور عوام کی بڑی تعداد نے دھماکوں کے باوجود مظاہرے میں شرکت جاری رکھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوام فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے متحد ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles