
لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان کے سابق کپتان بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست منظور کرلی ہے۔
جمعرات کو لاہور ہائیکورٹ میں سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم بابر اعظم پر خاتون کو جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
جسٹس اسجد جاوید گھرال کے روبرو درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے جب کہ وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور خاتون حمیزہ مختار کے وکلا بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
بابر اعظم کے وکیل بیرسٹر حارث عظمت نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار خاتون نے پہلے بھی 2018 میں بے بنیاد درخواست دی تھی، بابر اعظم کو 2018 سے 2020 تک کرکٹ کے میدان میں بے پنا شہرت ملی، خاتون نے کرکٹر سابق کپتان کو 15 کروڑ روپے ہرجانہ کا نوٹس بھجوایا اور ان پر شادی کا جھانسہ دے کر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔
وکیل نے کہا کہ خاتون نے نوٹس کے ذریعے 15 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا اورادائیگی نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ مقدمہ درج کروانے کی دھمکی دی۔
بیرسٹر حارث عظمت نے عدالت کو بتایا کہ بابراعظم کے انکار کے بعد خاتون نے جسٹس آف پیس کے پاس دوبارہ اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی، جس پر ایڈیشنل سیشن جج نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جب کہ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جسٹس آف پیس کا یہ حکم قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔
بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے سابق کپتان کی درخواست منظور کرلی۔
واضح رہے کہ مارچ 2021 میں لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم معطل کردیا تھا اور ایف آئی اے سائبر کرائم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں جواب طلب کیا تھ جب کہ عدالت نے مدعیہ کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کیے تھے۔