ایران کا اسرائیل میں پالماہیم اور عودہ ایئربیسز، انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تازہ حملوں میں اسرائیل کے پالماہیم، عودہ ائیربیس اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے ہیڈکوارٹر شِن بیت کو نشانہ بنایا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ جنگ کے تیرہویں دن بھی کشیدگی میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایران کی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کی تازہ لہر میں اسرائیلی فوجی اڈے پالماہیم اور عودہ ایئربیسز کے علاوہ داخلی سکیورٹی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر شِن بیت کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں اسرائیل کے فوجی ڈھانچے، نگرانی ٹاورز، رن ویز اور ہینگرز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ جس کا مقصد اسرائیل کی فوجی اور داخلی سلامتی کے ڈھانچوں کو نشانہ بنانا تھا۔

اسرائیلی حکام نے 28 فروری سے جاری جنگ میں اب تک کم از کم 13 افراد ہلاک اور تقریباً دو ہزار افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پالماہیم ائربیس تل ابیب کے قریب واقع ہے اور یہ اسرائیل میں سٹیلائٹس اور میزائل ٹیسٹ لانچ کرنے کا مرکزی مقام ہے۔ عودہ ائربیس اسرائیلی فضائیہ کا ایک اسٹریٹجک اور تربیتی فضائی اڈہ ہے جب کہ شِن بیت اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی کا مرکز ہے۔ یہ ایجنسی سیکیورٹی آپریشنز کی کمانڈنگ، اہم شخصیات اور تنصیبات کی حفاظت کی کوآرڈی نیشن کی ذمہ دار ہے۔

اسرائیل کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں یروشلم میں الارم بج اٹھے اور فوج نے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی۔ رات کے وقت ایران اور حزب اللہ کی جانب سے میزائل حملوں کے باعث تل ابیب اور لبنان کے شمالی سرحدی علاقوں میں شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران کی اہم نیوکلیئر سائٹ ’طالقان 2‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران کے قریب واقع اس نیوکلیئر سائٹ پر ہتھیار بنائے جارہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سائٹ کو خفیہ نگرانی اور سائنس دانوں کی نقل و حرکت پر مبنی معلومات کے بعد کیا گیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles