ایرانی حملوں میں 17 امریکی فوجی اڈوں کو بھاری نقصان پہنچا: نیویارک ٹائمز نے تصاویر جاری کردیں

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جب کہ اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر بھی جاری کردیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں کم از کم 17 امریکی تنصیبات اور مقامات کو نقصان پہنچا ہے جب کہ متعدد امریکی فوجی ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیوں میں خطے بھر میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی تنصیبات اور دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر، تصدیق شدہ سوشل میڈیا ویڈیوز اور امریکی و ایرانی حکام کے بیانات کی بنیاد پر کم از کم 17 امریکی مقامات کو نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے کئی تنصیبات کو ایک سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے ہزاروں ڈرون اور میزائل فائر کیے جن میں سے زیادہ تر کو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روک لیا تاہم کم از کم 11 امریکی فوجی اڈوں یا تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

جنگ کے پہلے دن 28 فروری کو ایران نے سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس، کویت میں علی السالم ایئر بیس اور کیمپ بوہرنگ اور قطر میں العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ قطر میں قائم العدید ایئر بیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں کئی مقامات پر عمارتوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو شدید نقصان دیکھا گیا ہے۔ یکم مارچ کو کویت کی شعیبہ بندرگاہ پر ایک ایرانی ڈرون حملے میں امریکی فوجی اہلکاروں کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔

پینٹاگون کے مطابق اسی روز سعودی عرب میں ایک امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے ایک اور حملے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 7 ہوگئی۔

امریکی حکام کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں ایرانی حملوں کی شدت میں کمی آئی ہے تاہم العدید ایئر بیس، علی السالم ایئر بیس، الظفرہ ایئر بیس، کیمپ بوہرنگ اور بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی فضائی دفاعی اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا، جن میں تھاڈ ایئر ڈیفنس سسٹم کے ریڈار اور سینسر شامل ہیں جو آنے والے میزائلوں اور فضائی خطرات کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اردن کے موافق السلطی ایئر بیس پر سیٹلائٹ تصاویر میں فضائی دفاعی سینسر کو شدید نقصان دکھائی دیا ہے جب کہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر پر حملے سے مواصلاتی ریڈار کو نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں الرویس تنصیب اور قطر کے قریب ام دہال کے مقام پر نصب طویل فاصلے کے ریڈار سسٹم کو بھی نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔

ایران نے امریکی سفارتی مقامات کو بھی نشانہ بنایا جن میں دبئی میں امریکی قونصل خانہ اور کویت سٹی اور ریاض میں امریکی سفارت خانے شامل ہیں تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق جنگ کے پہلے دن کے بعد ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد اور ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے تاہم ایران کی جانب سے امریکی اہداف پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles