
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولینا لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے کہ جاری جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی، جبکہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولینا لیوٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انرجی ٹیم عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ہر ممکن آپشن استعمال کریں گے، تاہم فی الحال وہ یہ نہیں بتا سکتیں کہ یہ آپشنز کیا ہوسکتے ہیں۔
کیرولینا لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکی افواج اس جنگ میں کامیابی حاصل کر رہی ہیں اور اب تک ایران کے تقریباً 5 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ان کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت تقریباً 90 فیصد تک کم ہوچکی ہے جبکہ ڈرون حملوں کی صلاحیت میں بھی تقریباً 85 فیصد کمی آچکی ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کے 50 بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں، جن میں ایک بڑا ڈرون لے جانے والا جہاز بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج ایران کے میزائل پروڈکشن انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔
کیرولینا لیوٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کے بی ٹو بمبار طیاروں نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی درجنوں بم استعمال کیے ہیں جو زمین میں گہرائی تک تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اس آپریشن کی مدت تین سے چار ہفتے رکھی گئی تھی، تاہم اس کا حتمی اختتام کمانڈر انچیف یعنی صدر ٹرمپ کے فیصلے سے ہوگا۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا جائے گا جب ایران ہتھیار ڈال دے، چاہے یہ سرنڈر اعلانیہ ہو یا غیر اعلانیہ۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے وضاحت کی کہ سرنڈر کا مطلب یہ نہیں کہ ایرانی حکام باہر آکر باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کریں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران امریکا کے لیے خطرہ نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ سرنڈر کا اصل مطلب یہ ہے کہ ایران کی میزائل اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہوجائے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ فی الحال امریکی بحریہ کسی بھی تجارتی یا دیگر جہاز کو اسکورٹ فراہم نہیں کر رہی۔