
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں چاہتا تاہم کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اسرائیل اور اس کے اتحادی مناسب نہ سمجھیں، لڑائی کے خاتمے کا فیصلہ امریکا کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔
یروشلم میں جرمن وزیر خارجہ کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی جب مناسب سمجھیں گے اس وقت تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کے بقول فوجی مہم ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران سے طویل مدت کے لیے ایسے خطرات کو ختم کرنا چاہتا ہے جو اس کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایران کے نئے نامزد سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کو انتہا پسند قرار دیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران پر کیے جانے والے حملوں کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن کے نتیجے میں ایرانی عوام اپنی موجودہ قیادت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے حالات پیدا ہونے کا امکان موجود ہے، تاہم ایرانی عوام کو اپنی آزادی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ممکن ہے جنگ کے خاتمے تک انتظار کرنا پڑے۔