ایران نے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو سخت جواب دیں گے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکا اس پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملے کرے گا۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ ایران پر حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کی تو امریکا ایسا سخت حملہ کرے گا جس سے ایران یا اس کی مدد کرنے والے دوبارہ سنبھل نہیں سکیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں بھی صدر ٹرمپ نے اسی دھمکی کو دہرایا اور کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکا اسے اب تک کیے گئے حملوں سے 20 گنا زیادہ سخت جواب دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وارننگ دراصل عالمی تجارت اور ان ممالک کے مفاد میں ہے جو خلیجی ملکوں سے تیل حاصل کرتے ہیں، جن میں چین جیسے بڑے خریدار بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی باہر نہیں جائے گا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کا ایک نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل گزرتا ہے۔

جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بند ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت معطل ہے جب کہ ذخیرہ گاہیں بھرنے کے باعث تیل پیدا کرنے والے ممالک کو پیداوار روکنا پڑ رہی ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی اور میزائل حملے شروع کیے تھے۔

ایران کے نائب وزیر صحت علی جعفریان کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم 1255 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 200 بچے بھی شامل ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles