مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے پر خوش نہیں ہوں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے سپریم لیڈر بننے پر خوش نہیں ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق فاکس نیوز کے اینکر برائن کلیڈ نے بتایا کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے اعلان کے بعد جب اس حوالے سے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے پر خوش نہیں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب سے متعلق سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو اس عمل میں کردار ملنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں کسی نئے سپریم لیڈر کو امریکا کی منظوری حاصل نہ ہوئی تو وہ زیادہ دیر تک اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکے گا۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے بھی ایران کی نئی قیادت کے حوالے سے سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جو بھی نیا رہنما منتخب ہوگا اسے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر تھے اور وہ 37 برس تک اس منصب پر فائز رہے۔

28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں تہران میں ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 86 سالہ رہنما جاں بحق ہوگئے تھے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے شہر اصفہان کے قریب واقع زیرِ زمین جوہری افزودگی کی تنصیب کے خلاف فوری امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد کر دیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا، ہم اس کے قریب بھی نہیں ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles