امریکا اور اسرائیل کی کون سی کمپنیاں ایران جنگ سے اربوں ڈالر کما رہی ہیں؟

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران دنیا کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے منافع میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ کے باعث جدید ہتھیاروں کی مانگ میں تیزی آئی ہے جس سے خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کی دفاعی صنعت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں امریکا کی بڑی دفاعی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا جس میں جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں آر ٹی ایکس (سابقہ ریتھیون)، لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، نارتھروپ گرومن، بی اے ای سسٹمز، ایل تھری ہیرس میزائل سلوشنز اور ہنی ویل ایرو اسپیس جیسی بڑی کمپنیوں کے سربراہان شریک ہوئے۔ ی

یہ تمام کمپنیاں پہلے ہی اربوں ڈالر کے آرڈرز حاصل کر چکی ہیں اور ان کے بیک لاگ آرڈرز کی مالیت بعض ممالک کی مجموعی قومی آمدنی (جی ڈی پی) کے برابر بتائی جا رہی ہے۔

امریکا پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا دفاعی اخراجات کرنے والا ملک ہے۔ 2025 میں اس کے دفاعی اخراجات تقریباً ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے جو دنیا کے اگلے نو بڑے ممالک کے مجموعی دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہیں۔

امریکی حکومت اس رقم کو بڑھا کر 2027 تک تقریباً ڈیڑھ ہزار ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایران کے خلاف جاری جنگ میں اربوں ڈالر کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جس کے باعث دفاعی کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے اسلحہ بنانے والی کئی امریکی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

نارتھروپ گرومن کے حصص تقریباً پانچ فیصد، آر ٹی ایکس کے ساڑھے چار فیصد جبکہ لاک ہیڈ مارٹن کے تین فیصد تک بڑھ گئے۔

امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائی ”آپریشن ایپک فیوری“ میں فضائی، بحری اور زمینی فورسز کے بیس سے زیادہ مختلف ہتھیاروں کے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والا ٹوما ہاک میزائل شامل ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے امریکی فوج کا اہم ہتھیار رہا ہے۔

یہ میزائل کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی بحریہ کے ارلی برک کلاس ڈسٹرائر جہازوں سے یہ میزائل فائر کیے جا رہے ہیں اور ہر جہاز نوّے سے زیادہ ٹوما ہاک میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی طرح امریکی فوج نے پہلی بار پریسیژن اسٹرائیک میزائل بھی استعمال کیا ہے جو ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم یعنی ’ہیمارس‘ سے داغا جاتا ہے۔ یہ میزائل تقریباً 400 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی نظام کے طور پر پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں اور ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم یعنی ’تھاڈ‘ بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

پیٹریاٹ سسٹم کم فاصلے سے آنے والے میزائل اور کروز میزائل کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ تھاڈ سسٹم فضا کی بلند سطح پر بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

امریکا نے لو کاسٹ ان میینڈ کومبیٹ اٹیک سسٹم یعنی ’لوکاس‘ نامی نیا حملہ آور ڈرون بھی استعمال کیا ہے۔ اس ڈرون کی قیمت تقریباً 35 ہزار ڈالر ہے اور اسے نسبتاً سستا اور استعمال کے بعد ختم ہونے والا ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ایم کیو نائن ریپر ڈرون کی قیمت تقریباً چار کروڑ ڈالر تک ہوتی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یکم مارچ کو ایک ریپر ڈرون مار گرایا تھا۔

امریکا ایران کے میزائل اڈوں اور زیر زمین بنکروں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید لڑاکا طیارے بھی استعمال کر رہا ہے جن میں بی ون اور بی ٹو بمبار طیارے، ایف 15، ایف 22 ریپٹر اور ایف 35 لائٹننگ ٹو شامل ہیں۔ یہ طیارے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرا کر اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جاسوسی اور نگرانی کے لیے بھی مختلف طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ای اے 18 جی گراؤلر الیکٹرانک وارفیئر طیارے موجود ہیں جو دشمن کے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو جام کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح پی ایٹ اے پوسائیڈن طیارے خلیج اور بحیرہ ہند کے علاقوں میں نگرانی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

امریکی ای تھری سینٹری اے واکس طیارے میدان جنگ کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ آر سی 135 جاسوس طیارے قطر اور متحدہ عرب امارات کے اڈوں سے پرواز کر کے ایرانی میزائل سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ارلی برک کلاس کے کئی جنگی جہاز بھی اس کارروائی کا حصہ ہیں۔

ان ہتھیاروں کی تیاری میں امریکا کی بڑی دفاعی کمپنیوں کا کردار نمایاں ہے۔

بوئنگ کمپنی بی ون بمبار، ایف 15 طیارے، ای اے 18 جی گراؤلر، پی ایٹ اے پوسائیڈن اور آر سی 135 طیارے تیار کرتی ہے۔

نارتھروپ گرومن بی ٹو اسٹیلتھ بمبار اور ای تھری سینٹری کے ریڈار سسٹمز بناتی ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن ایف 35 اور ایف 22 لڑاکا طیارے، تھاڈ دفاعی نظام، ہیمارس راکٹ سسٹم اور مختلف میزائل تیار کرتی ہے۔

آر ٹی ایکس کارپوریشن کا ریتھیون ڈویژن ٹوما ہاک اور پیٹریاٹ میزائل بناتا ہے۔

اس کے علاوہ اسپیکٹر ورکس لوکاس ڈرون جبکہ جنرل ایٹامکس ایم کیو نائن ریپر ڈرون تیار کرتی ہے۔

امریکی بحریہ کے بڑے جنگی جہاز ہنٹنگٹن انگلز انڈسٹریز تیار کرتی ہے۔

عالمی سطح پر اسلحہ ساز کمپنیوں کی آمدنی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے مطابق 2024 میں دنیا کی سو بڑی دفاعی کمپنیوں نے مجموعی طور پر 679 ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل کی۔ ان میں امریکی کمپنیوں کا حصہ سب سے زیادہ تھا جو تقریباً 334 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس کے بعد چین، برطانیہ، روس اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔

امریکا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن ہے جس نے 2024 میں تقریباً 68 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ اس کے بعد آر ٹی ایکس، نارتھروپ گرومن، جنرل ڈائنامکس اور بوئنگ بڑی کمپنیوں میں شامل ہیں۔

اسرائیل کی دفاعی صنعت بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنیوں میں ایلبٹ سسٹمز، اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز اور رافیل شامل ہیں۔

ایلبٹ سسٹمز ڈرون، نگرانی کے نظام اور جنگی الیکٹرانکس تیار کرتی ہے۔

اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز میزائل دفاعی نظام، سیٹلائٹ اور ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے جبکہ رافیل کمپنی آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیار تیار کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی دفاعی اخراجات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2024 میں دنیا بھر میں دفاعی اخراجات تقریباً 2.7 کھرب ڈالر تک پہنچ گئے تھے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9.4 فیصد زیادہ ہیں۔

نیٹو ممالک نے بھی 2035 تک اپنے دفاعی بجٹ کو اپنی مجموعی قومی آمدنی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے باعث اسلحہ کے ذخائر تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں، جس کے بعد نئے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے بڑے پیمانے پر آرڈرز دیے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑی دفاعی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دفاعی صنعت عالمی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی نظر آ رہی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles